ہسپتال کے اندر خون تھا تو باہر صرف اشتعال

Image caption مشتعل ہجوم نے ایمرجنسی وارڈ میں توڑپھوڑ بھی کی اور دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشوں کو توڑ ڈالا

پشاور میں کوہاٹی گیٹ کے قریب گرجا گھر میں ہونے والے دھماکوں کی کوریج کے لیے جب میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور پہنچا تو ایمرجنسی وارڈ کے سامنے اور اندر ایک عجیب منظر تھا۔

مرنے والے افراد کے عزیز و اقارب جہاں دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے وہیں ان کے مشتعل جذبات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہ تھا۔

زخمیوں کو جس وقت لایا جارہا تھا اس وقت تک ایمرجنسی گیٹ کے سامنے عیسائی براداری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوان ہجوم کی شکل میں جمع ہوگئے تھے۔

یہ افراد انتہائی غصے کی حالت میں تھے اور پھر جب پشاور پولیس کے سربراہ محمد علی بابا خیل پولیس اہلکاروں سمیت ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے تو وہاں موجود افراد اچانک مشتعل ہوگئے اور انہوں پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کر دیا۔

پولیس سربراہ اور دیگر اہلکار اس پتھراؤ سے تو محفوظ رہے لیکن لوگوں کے تیور دیکھ کر وہ وہاں سے فوری طور پر نکل گئے۔

اس دوران مشتعل ہجوم نے ایمرجنسی وارڈ میں توڑپھوڑ بھی کی اور دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشوں کو توڑ ڈالا۔ اس ساری کارروائی کے دوران وہاں پولیس اہلکار اور ہسپتال کا عملہ بھی موجود تھا لیکن لوگوں کے غصے کو دیکھ کر کوئی ہجوم کو روکنے کے لیے سامنے نہیں آیا۔

مشتعل افراد مسلسل عمران خان ، وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف زبردست نعرہ بازی کرتے رہے۔ انہوں نے سخت غصے کی حالت میں کچھ قومی رہنماؤں کےلیے نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا ۔

Image caption مشتعل افراد نے پولیس والوں سے بھی ہاتھا پائی کی

پیپلزپارٹی کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی بھی اس احتجاج میں پیش پیش رہیں اور ایمرجنسی وارڈ کی سیڑھیوں پر بیٹھے عیسائی نوجوانوں کے ساتھ ’عمران خان مردہ باد‘ کے نعرے لگاتی رہیں۔

وارڈ کے اندر داخل ہونے کا موقع ملا تو ہر طرف زخمی بیڈ اور سٹریچروں پر پڑے ہوئے تھے اور وارڈ کے فرش پر بھی ہر طرف خون ہی خون بکھرا ہوا تھا۔

تقریباً تین گھنٹے تک ہسپتال میں میری موجودگی کے دوران عوامی نیشنل پارٹی ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما تو وہاں آئے تاہم اس دوران پاکستان تحریک انصاف کا کوئی وزیر یا پارٹی عہدیدار دیکھنے میں نہیں آیا۔

موقع پر موجود عیسائی نوجوان اس بات پر بھی غصے میں تھے کہ نہ تو گرجا گھر کو حکومت کی طرف سے کوئی خاص سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور نہ اب حکومتی اہلکار ان سے ہمدردی کے لیے ہسپتال آ رہے ہیں۔

تاہم جب حالات کچھ بہتر ہوئے تب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان دیگر وزرا اور رہنماؤں کے ہمراہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال آئے اور زخمیوں کی عیادت کی۔

عمران خان کی آمد بھی مشتعل عیسائیوں کے دکھ میں کمی نہ لا سکی اور کچھ رہنما یہ بات بھی کرتے سنائے دیے کہ عمران خان دہشت گردوں سے مذاکرات کی بجائے ان کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتے تو شاید انہیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اسی بارے میں