طالبان سے حکمرانوں کا نازک رشتہ

Image caption ہلاکتوں کے لحاظ سے یہ مسیحی برادری پر سب سے بڑا حملہ تھا

لگتا ہے کہ جیسے پاکستان کے موجودہ حکمران اور حکمران پارٹیوں کے سربراہان دہشت گردوں سے کچے دھاگوں سے بندھے ہوں ۔

حکمران طالبان کا نام لیتے اس طرح شرماتے ہیں جس طرح گاوں دیہاتوں میں کچھ عورتیں اپنے شوہروں یا منگیتروں کے نام لینے سے شرماتی ہیں۔ دہشت گردوں نے دیر میں ایک میجر جنرل سمیت فوجیوں کو قتل کر ڈالا، گذشتہ اتوار کو پشاور کے قدیم تاریخی چرچ آل سینٹس چرچ میں اتوار کی عبادت کے دوران مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 80 افراد کو دہشت گردانہ حملے میں قتل کر کر ایک بار پھر اس کی تصدیق کر لی کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے، لیکن حکمران ہیں کہ اب بھی دہشت گردوں سے مذاکرات پر مصر ہیں۔

یہ سٹین لیس سٹیل کا ناک صرف پاکستان کے حکمرانوں کے ہی نصیب میں آتا ہے کہ ان کے ملک کے 80 شہریوں کا قتلِ عام ہوا ہو اور وہ غیر ملکی دورے کر رہے ہوں۔ مہذب اور انسانیت سے بھرپور معاشروں میں جہاں انسان و جانور کی جان کی قدر ہوتی ہو وہاں کا حکومتی یا ریاستی سربراہ سوچ ہی نہيں سکتا وہ ایسی صورتِ حال میں غیر ملکی دورے جاری رکھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جس طرح کا سفارتی سرکس اور ناکام کرتب ہمارے حکمران اور وزرا و سفرا دکھاتے ہیں، وہ تو کوئی بھی وزارتی سطح کا شخص کرسکتا تھا۔

جنرل اسمبلی والی لکھی ہوئی تقریر تو کوئی بھی وحید مراد ٹائپ وزیر سفیر کرسکتا تھا۔

بس پشاور کے چرچ میں بہائے جانے والے بے اسرا و یتیم لہو پر اتنا احسان سو کیا کہ پہلے سے ہی لندن سے نیویارک جاتے ہوئے انہوں نے ایک بیان پریس کو جاری کیا جس میں بھی قتل ہونے والے مظلوم عیسائیوں سے ہمدردی سے زیادہ ہمدردانہ لہجہ اور باڈی لینگوئیج طالبان سے اس قدر تھی کہ انہیں مجوزہ مذاکرات ناکام ہونے کی فکر تھی۔

ملک میں عملداری اور حاکمیت اب حکومت کی نہیں انتہاپسندوں، طالبان اور شدت پسند گروہوں کی ہے۔ حکومت ان لاتوں کے بھوتوں کو باتوں سے رام کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے کہاں مانتے ہیں؟ کہاں مانے ہیں!

اگر پاکستانی ریاست و حکومت ان سے اب بھی ڈائیلاگ کا راگ الاپتے رہے تو پھر ایک دن آنے والے اسلام آباد سے فقط چند گھنٹوں اور بمشکل چند سو میل کی مسافت پر رہ جاتے ہیں۔

موجودہ حکومت یا کسی بھی حکومت میں وہ جرات بھی نہیں جو طالبان کے خلاف بہادر لڑکی ملالہ یوسف زئي نے دکھائي تھی۔

فوج کی بھی مکمل آنکھ تب کھلی ہے جب اس کے اپنے جنرل کا پیر دہشت گردوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ پر پڑا ہے، ورنہ پورے ملک میں بارودی سرنگیں بچھانے والے طالبان کو انھوں نے اچھے اور برے میں بانٹا ہوا تھا۔ موجودہ حکومت اور کئي شرکت کاروں نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں دہشت گردی پر پالیسی کانفرنس کی قرارداد میں ان کو ’اپنے لوگ‘ کہا ہے جنہوں نے معصوم شہریوں، اور فوجیوں کے گلے کاٹے ہیں اور سر قلم کیے ہیں۔

فوج اگر چاہے تو ان سے ڈائیلاگ بازی کے بغیر عوام کی حمایت سے ان کو ختم کرسکتی ہے، لیکن لگتا ہے ختم کرے گی نہیں۔ یہ سوچ لیں ان جیسے گروہ اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔