’افسوس حکومت، عوام کی سوچ آگے بڑھنے سے قاصر ہے‘

Image caption شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پشاور میں گرجا گھر میں خودکش دھماکوں جیسے واقعات دہشتگردی کے خاتمے کی بات چیت کے لیے نیک شگون نہیں۔

نواز شریف نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جاتے ہوئے راستے میں لندن میں قیام کے دوران کہی۔

پشاور: ہلاکتیں اٹھہتر، مُلک میں تین روزہ سوگ

اہلِ اقتدار کی خاموشی ہی اصل طالبانیت ہے

لندن میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے اچھی نیت سے ایک نیک کام کا آغاز کیا اور طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کو کل جماعتی کانفرنس میں موجود تمام جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ اچھی نیت سے اچھے کام کرنا کوئی بری بات نہیں لیکن ’افسوس اس بات کا ہے کہ(قیام ِ امن کے لیے) حکومت کی جو سوچ تھی وہ آگے بڑھنے سے قاصر ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پشاور میں اتوار کو ہونے والے حملے جیسی کارروائیاں کرنے والے ملک دشمن ہیں اور یہ کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گا۔

اس سے پہلے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی کہہ چکے ہیں کہ کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ دہشتگردوں کی شرائط تسلیم کی جائیں گی۔

رواں ماہ اپر دیر میں ایک دھماکے میں پاکستانی فوج کے میجر جنرل کی ہلاکت کے بعد بیان میں جنرل کیانی نے کہا تھا کہ سیاسی عمل کے ذریعے قیامِ امن کی کوششوں کو ایک موقع دینا سمجھ میں آتا ہے لیکن کسی کو اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ’دہشتگرد ہمیں اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ نو ستمبر کو پاکستانی حکومت کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کی راہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس کانفرنس میں ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت نے بھی شرکت کی تھی اور اس میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ’اپنے لوگوں‘ سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

تاہم اس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی حکومت سے قیامِ امن کے لیے کسی قسم کے مذاکرات سے قبل بااختیار اور مخلص ہونے کا ثبوت طلب کیا تھا اور ان کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگر حکومت قبائلی علاقوں میں تعینات فوجیوں کو واپس بلا لے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دے تو طالبان کو مذاکرات کے لیے اس کے اختیار اور نیت پر یقین آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں