غیر قانونی سمز بند کر دیں: پشاور ہائی کورٹ

Image caption چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں سمز فٹ پاتھ پر آلو کی طرح فروخت ہو رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو موبائل فون کے غیر قانونی سمز فوری طور پر بند کرنے اور حکومت سےاس بارے میں قانون سازی کرنے کا کہا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ دوست محمد خان نے موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمنیوں کے غیر قانونی سمز کارڈ کی خریدو فروخت پر لیے گئے از خود نوٹس کی سنوائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تباہی مچی ہوئی ہے اور موبائل فون کی کمپنیاں ڈالر کمانے میں مصروف ہیں۔

عدالت میں منگل کو پی ٹی اے کے حکام کے علاوہ موبائل فون کی سروس فراہم کرنے والی کمنیوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ ملک میں جاری ہشت گردی کے واقعات میں غیر قانونی سمز( سبسکرائبرز آیڈنٹٹی ماڈیولز) استعمال ہو رہے ہیں، پی ٹی اے کو چاہیے کہ غیر قانونی سمز فوری طور پر بند کردیں۔

دہشت گردی کا خطرہ، موبائل فون سروس معطل

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سمز فٹ پاتھ پر آلو کی طرح فروخت ہو رہے ہیں اور ایک ایک شخص کے پاس کئی کئی سمز ہیں۔ انھوں نے مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص کے پاس باون سمز ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق پاکستان میں افغانستان کی فون کمپنیوں کے سمز بھی بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں اس کا نوٹس بھی لیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک اطلاع کے مطابق پاکستان میں خاص طور پر خیبر پختونخوا میں افغان فون کمپنیوں کے کوئی دس لاکھ سمز استعمال ہو رہے ہیں۔

پی ٹی اے کے حکام نے اس بارے میں عدالت کو بتایا کہ وہ نادرا سے بات چیت کر رہے ہیں جس کے بعد کارروائی کی جائے گی ۔

چیف جسٹس نے اس بارے میں کہا کہ نادرا خود مشکل میں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ غیر قانونی سمز کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے اور اگر اس بارے میں کوئی کارروائی نہ ہوئی تو انھیں اس بات پر مجبور نہ کیا جائے کہ وہ سیلولر کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرا دیں۔

چیف جسٹس دوست محمد خان نے گزشتہ ہفتے غیر قانونی سمز کارڈم کی فورخت پر از خود نوٹس لیا تھا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام کے علاوہ سیلولر کمپنیوں کے نمائندوں کو عدالت میں منگل کو مقدمے کی سماعت کے لیے طلب کیا تھا۔

اسی بارے میں