شدید زلزلے سے بلوچستان میں ’88‘ ہلاکتیں

Image caption کراچی میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے

پاکستان میں منگل کی سہ پہر کو آنے والے شدید زلزلے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں ’اٹھاسی‘ افراد کے ہلاک ہونے اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بلوچستان کے علاقے آواران میں ایف سی کے حکام نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اب تک اسّی افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہیں۔

اسی طرح ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والی بیان میں کہا گیا ہے کہ کیچ میں اب تک آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پاکستان فالٹ لائن پر بیٹھا ہے

پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی نے کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زلزلے سے بلوچستان میں تینتیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تربت کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا ’ضلع کیچ میں اور تربت کی تحصیل ہوشاب کے یونین کونسل ڈنڈار کے مختلف دیہاتوں میں رہائشی مکانات گرنے سے اب تک 8 افراد جان بحق ہوئے ہیں۔‘

لندن میں موجود بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے منگل کی شام کو بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ صرف قلات کے علاقے سے تینتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کمشنر قلات نے کر دی تھی جبکہ آواران میں بیدی، ماشی اور جاؤ کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے بلوچستان کے پسماندہ ترین حصوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع آواران کے ضلعی ہسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر امیر بخش نے باون افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ بی بی سی اردو کے احمد رضا سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے ہیں۔ متاثرین کی طبی مدد کے لیے ادویات خاص طور پر درد کشا گولیوں، اینٹی بایوٹکس اور ڈرپس وغیرہ کی ضرورت ہے۔

ڈپٹی کمشنر کیچ کے پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ’مقامی انتطامیہ کی جانب سے محکمہ صحت کے تعاون سے میڈیکل ٹیم ادویات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں روانہ کردی گئی ہیں ، لیویز ہیڈکوارٹر میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام سرکاری محکموں کو الرٹ کردیا گیا ہے‘۔

منگل کی رات کو چیف سیکریٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد کی زیر صدارت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں زلزلے سے آواران ، تربت اور بعض دیگر اضلاع میں ہونے والے نقصانات اور صورتحال کی جائزہ لیا گیا۔

بلوچستان کے سیکریٹری صحت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ لسبیلہ سے فوری طور پر میڈیکل ٹیم، ایمبولینس اور ادویات آواران روانہ کردی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو بتایا کہ فوری طور پر بارہ ٹرکوں پر مشتمل امدادی اشیاء آواران روانہ کردی گئی ہیں۔ سندھ حکومت نے بی دو ٹرک ادویات کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان میں جاری شورش سب سے زیادہ ان علاقوں میں ہو رہی ہے اور یہی علاقہ ڈاکٹر اللہ نذر کے علیحدگی پسند گروہ کا مرکز ہے اور ڈاکٹر اللہ نذر بھی اسی علاقے میں روپوش ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آواران کے علاقے میں بہت تباہی ہوئی ہے جس میں سکول اور لیویز کا مقامی ہیڈ کواٹر بھی منہدم ہو گیا ہے۔

زلزلے کے بعد علاقے میں گرد و غبار کے بادل چھا گئے ہیں جس کی وجہ سے فضائی راستے سے امداد پہنچانے میں مشکالات کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر مالک نے کہا کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان دور دارز علاقوں تک امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے لیکن گرد و غبار کے باعث بعض علاقوں میں ہیلی کاپٹر کی پرواز ممکن نہیں ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ منگل کو اس وقت جب زلزلے کی خبر آئی بی بی سی کے لندن آفس میں موجود تھے۔

زلزلے کی اطلاعات موصول ہوتے ہی انھوں نے بلوچستان میں حکام سے رابطے شروع کر دیے اور امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔

صوبائی حکام سے رابطوں کے بعد انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی شدت کی وجہ سے وسیع علاقے میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں غربت بہت ہے اور آبادی کی اکثریت کچے مکانوں میں رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جانی نقصان بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

منگل کی سہ پہر پاکستان کے جنوبی صوبوں سندھ اور بلوچستان اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت پاکستان کے جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.7 تھی۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بج کر تیس منٹ پر آیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 تھی اور یہ زمین سے صرف دس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس شدت کا زلزلہ طاقت ور درجہ بندی میں آتا ہے اور اس کا مرکز صوبہ بلوچستان کے جنوبی علاقے مکران ڈویژن اور خضدار سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے کا اثر مشرق وسطیٰ میں سلطنت عمان کے علاوہ ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں محسوس کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ان علاقوں اور ایران کے جنوبی علاقوں سے فالٹ لائن گزرتی ہے اور گزشتہ پانچ سال کے دوران اس فالٹ لائن پر زیادہ زلزلے ایران میں آئے ہیں، جبکہ حالیہ زلزلہ بلوچستان میں گزشتہ سات سال کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ ہے۔

زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہروں کراچی، حیدر آباد، جبکہ صوبہ بلوچستان کے شہروں سبی، بولان، خضدار، اور ڈیرہ مراد جمالی میں بھی محسوس کیے گئے۔

کراچی اور حیدرآباد میں لوگوں عمارتوں سے باہر سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے، تاہم ان شہروں سے کس قسم کے نقصان کی اطلاع تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔