ملکی مسائل میں نواز حکومت مفلوج نظر آ رہی ہے

پاکستان کو درپیش مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور نواز شریف کی حکومت مفلوج نظر آ رہی ہے۔ انھوں نے صرف تین ماہ پہلے ہی پرامیدی کے نام پر انتخابات میں فتح حاصل کی تھی، لیکن اب سب سوچ رہے ہیں کہ غلطی کہاں ہوئی ہے۔

جب نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت عوام کی امیدیں آسمان کو چھو رہی تھیں کہ وہ بہت جلد شدت پسندی، مختلف علاقوں میں جاری مزاحمتی تحریکیں، بگڑتی ہوئی معاشی حالت، بجلی کا بحران اور کمزور خارجہ پالیسی جیسے مسائل پر قابو پا لیں گے۔

اہل اقدار کی خاموشی ہی اصل طالبانیت ہے

افسوس حکومت، عوام کی سوچ آگے بڑھنے سے قاصر ہے

نواز شریف’ٹو پوائنٹ او‘

اس کے برعکس نواز حکومت بری طرح الجھ گئی اور شدت پسندی کے واقعات میں اضافے پر عوام کے غصے میں اضافہ ہوا، معاشی حالت مزید خراب ہوئی اور ان کی حکومت درجنوں اہم عہدوں پر اہلکاروں کو تعینات کرنے میں ناکام نظر آئی، جس میں کارپوریشنوں کے سربراہ، لندن اور واشنگٹن میں سفیروں کی تعیناتی شامل ہے۔

اس کے علاوہ یہ امید تھی کہ فوج کے ساتھ بات چیت کی وجہ سے سول ملٹری شراکت داری قائم ہو گی جس میں فوج اور جمہوری حکومت کا ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک موقف ہوگا، تاہم اس بارے میں تاحال کم ہی نتائج سامنے آئے ہیں۔

سیاست دانوں، ماہرین اور فوج سے کئی ہفتوں کی مشاورت کے بعد نو ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس میں پاکستانی طالبان سے نمٹنے کی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا اور کانفرنس میں شامل تمام جماعتوں کو اس کی حمایت حاصل تھی لیکن بہت سے ماہرین اور فوج نے اسے مسترد کر دیا۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ غیر مشروط طور پر طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کرے گی اور اس میں طالبان کو دہشت گرد کہنے کی بجائے فریق کہاگیا اور حکومت کی سربراہی میں کل جماعتی کانفرنس میں امریکہ اور افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

Image caption پشاور میں ایک چرچ کے اندر دو خودکش حملوں میں اسی سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو تیس کے قریب زخمی ہو گئے

طالبان نے اپنی تیس کے قریب شرائط کی فہرست جاری کی۔ ان شرائط میں ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ اور تمام قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی کی شرط شامل ہے۔

تاہم اس کے باوجود پندرہ ستمبر کو افغان سرحد سے متصل اپر دیر کے علاقے میں بری فوج کے میجرل جنرل ثنا اللہ نیازی، ایک لیفٹینٹ کرنل ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے اور اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی۔ اسی دن مختلف حملوں میں سات فوجی ہلاک ہو گئے۔

بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی، جنہوں نے پہلے ہی نواز شریف کو متنبہ کیا تھا کہ ہتھیار ڈالنے کی پالیسی اختیار نہ کی جائے، کھلے عام حکومت کو خبردار کیا کہ فوج طالبان کو امن کے شرائط طے کرنے کی اجازت نہیں دے گی: ’ کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ طاقت کے زور پر دہشت گردوں کی شرائط تسلیم کی جائیں گی۔‘

اس کے بعد اتوار کو پشاور کے ایک چرچ میں خودکش حملوں میں اسی سے زائد افراد ہلاک اور ایک سو تیس زخمی ہو گئے اور حملے کے نتیجے میں بھی نواز شریف کے اقدامات کو دھچکا لگا۔

ایک ایسے وقت جب نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے جہاں ان کا منصوبہ تھا کہ مغربی ممالک کو اپنے منصوبوں سے متاثر کریں گے، لیکن نیویارک کے سفر میں لندن تک پہنچنے پر ان کو اس میں بنیادی تبدیلیاں لانی پڑیں اور پہلی بار کہا کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنے کا خیال اچھا نہ ہو۔

لیکن یہاں سے انہوں نے کیا سوچنا شروع کیا اس کے بارے میں ان کے قریبی ساتھی بھی نہیں جانتے۔

ماہرین نے انہیں بتایا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی جامع پالیسی میں طالبان سے بات چیت کی حکمت عملی شامل ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ طاقت کے استعمال اور معاشی ترقی سمیت دیگر اقدامات شامل ہونے چاہییں۔

اب ایسا لگتا ہے کہ طالبان حکومت کو کمزور دیکھ کر اپنے حملوں میں اضافہ کریں گے تاکہ اسے خوفزدہ کر کے دباؤ میں لایا جا سکے۔

Image caption لائن آف کنٹرول پر دس سال کی خاموشی کے بعد دوبارہ فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے

بالکل اسی طرح بے سمت اور سست روی کا شکار نواز شریف کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں بلوچ مزاحمت کاروں سے بات چیت شروع کرنے کا عمل ایک بےکار وعدہ ہے۔ نواز شریف کو کراچی میں مسلح گروہوں کے تصادم اور ساحلی شہر کو یرغمال بنانے کے سنگین مسئلے سے نمٹنے میں کچھ کامیابی ملی۔

نیم فوجی دستوں کی سربراہی میں کراچی میں آپریشن جاری ہے اور ابھی اس کے نتائج برآمد ہونا باقی ہیں۔

ابھی تک نواز شریف اور فوج نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ طے نہیں کیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کس تیزی سے بہتر کرنے ہیں۔

نواز شریف نے جون میں بھارت سے رابطہ کیا تھا لیکن بھارتی حکومت کے مطابق انہیں (نواز حکومت) اس سے پہلے کم از کم تین معاملات پر پیش رفت دکھانا ہو گی جس میں بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک کا درجہ دینا، 2008 میں ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث لشکر طیبہ کے سات جنگجوؤں کے خلاف عدالتی کارروائی اور لشکر طیبہ اور اس کے سابق سربراہ حافظ سعید کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

بھارت کی مشروط بات چیت پاکستان کی فوج کے ساتھ زیادہ مثبت نہیں ہو سکتی، جو چاہتی ہے کہ بھارت کشمیر کے تنازعے سمیت تمام امور پر جامع مذاکرات شروع کرے۔ فوج نے نواز شریف کو بتایا کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہت تیز جا رہے ہیں اور بھارت کی تین شرائط میں کسی پر بھی عمل درآمد کو روک دیں۔

اس کے علاوہ متنازع خطے کشمیر کو تقیسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر دس سال کی جنگ بندی کے بعد ایک بار پھر فائرنگ کے واقعات شروع ہو گئے ہیں اور رواں سال دونوں طرف درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

لشکر طیبہ کے سابق سربراہ حافظ سعید پوری طرح سے خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہیں اور انہیں رواں ماہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھارت مخالف جلوس کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کافی ہچکچاہٹ کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کرنے پر رضامند ہوئے مگر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا اصرار ہے کہ’ہمیں مطمئن کرنے کی ضرورت ہے‘ اور ضرورت ہے کہ ’کچھ کر کے دکھائیں۔‘

Image caption قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف فوج کی کارروائیوں میں ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں

پاکستان میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ملک کی کرنسی کی قدر میں ماہانہ 2.5 فیصد کی کمی ہو رہی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا، شرح نمو تین فیصد پر کھڑی ہے اور مالی خسارہ نو فیصد کے قریب ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے چھ ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیا لیکن اس کا زیادہ تر حصہ سابق قرضوں کو ادا کرنے میں خرچ ہو گا۔ تاحال حکومت عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطالبے پر نچلی سطح کی اقتصادی اصلاحات کرنے سے بھی قاصر ہے اور اگر ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس صورت میں آئی ایم ایف سے مزید فنڈز ملنے اور سرمایہ کاری میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور سرمایہ کاری کے لیے سخت اصلاحات درکار ہیں لیکن ابھی تک نواز حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی قدم اٹھانے کا عندیہ نہیں ملا۔ اسی طرح سے اگر پاکستان نے اپنی سالمیت کو قائم رکھنا ہے اور شدت پسندوں کی جانب سے لاحق خطرات پر قابو پانا ہے تو شدت پسندی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

اسی بارے میں