پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں منگل کو آنے والے سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے میں 270 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بلوچستان ماضی میں بھی کئی بار زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے اور صوبے میں زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی سنہ انیس سو پینتیس میں آنے والے زلزلے میں ہوئی تھی۔

اس زلزلے نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو تباہ کر دیا تھا اور ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل سنہ اٹھارہ سو ستائیس اور انیس سو اکتیس کے درمیان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نو مختلف زلزلے آئے۔

یہ رواں سال بلوچستان میں آنے والا دوسرا بڑا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل سولہ اپریل کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں زلزلے سے 35 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان میں سال دو ہزار بارہ میں کوئی بڑا زلزلہ نہیں آیا تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لیکن ان کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی۔

اسی طرح جنوری دو ہزار گیارہ کو ملک کے جنوب مغربی علاقے میں سات اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ آیا تاہم بہت گہرائی میں ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

اس سے قبل 2008 میں اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان ہی چھ اعشاریہ چار شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس قدرتی آفت سے 300 افراد مارے گئے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو ہوا۔

شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سات اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے سے 73000 افراد ہلاک ہوئے اور وسیع علاقے میں املاک کو نقصان پہنچا اور اب تک ان علاقوں میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

اس سے پہلے سنہ دو ہزار دو میں بھی کشمیر کے علاقے میں زلزلے آئے تھے۔ دو ہزار دو میں ہی نومبر کے مہینے میں گلگت کا علاقہ تین مرتبہ زلزلوں کا نشانہ بنا تھا۔

بیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو گلگت میں آنے والے زلزلے سے تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے اورگلگت اور استور میں لینڈ سلائیڈنگ سے پندرہ ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے یکم اور تین نومبر کو بھی گلگت اور استور میں آنے والا زلزلے پشاور، اسلام آباد اور سری نگر تک محسوس کیے گئے۔ ان زلزلوں سے شاہراہ قراقرم بند ہوگئی تھی جبکہ کل اٹھارہ افراد ہلاک اور پینسٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

چھبیس جنوری سنہ دو ہزار ایک کو بھارتی صوبہ گجرات میں آنے والے زلزلے سے جنوبی پاکستان میں رن آف کچھ کا علاقہ متاثر ہوا جس سے بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ستائیس فروری انیس سو ستانوے میں بلوچستان میں ہرنائی کے مقام پر ایک بڑی شدت کا زلزلہ آیا جس سے کوئٹہ، ہرنائی اور سبی میں لینڈ سلائیڈنگ سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ زلزلہ وسطی بلوچستان میں بھی محسوس کیا گیا تھا۔

اکتیس جنوری انیس سو اکیانوے کو کوہ ہندوکش میں آنے والے زلزلے سے پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصا چترال میں تین سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

تیس دسمبر انیس سو تراسی کو کوہ ہندوکش میں ایک بڑے زلزلہ سے شمالی پاکستان میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ 1974 میں دسمبر کے ہی مہینے میں مالاکنڈ کے شمال مشرق میں آنے والے زلزلہ پانچ ہزار سے زیادہ افراد کی جان جانے کا سبب بنا۔

اس خطے میں زلزلے کیوں آتے ہیں

پاکستان میں زیادہ زلزلے شمال اور مغرب کے علاقوں میں آتے ہیں جہاں زمین کی سطح کے نیچے موجود غیر یکساں تہیں یعنی انڈین ٹیکٹونک پلیٹ ایرانی اور افغانی یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے ساتھ ملتی ہے۔

زیر زمین تہہ جسے انڈین پلیٹ کہا جاتا ہے بھارت، پاکستان اور نیپال کے نیچے سے گزرتی ہے۔ انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے ٹکراؤ کے نتیجہ میں ہی ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے وجود میں آئے تھے۔

پاکستان میں جن علاقوں میں زلزلہ آنے کا سب سے زیادہ امکان ہے وہ کوئٹہ سے افغانستان کی سرحد تک پھیلا ہوا علاقہ اور مکران کے ساحل کا علاقہ ہے جو ایرانی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کوہ ہندوکش میں آنے زلزلے شمالی علاقہ جات اور صوبہ سرحد کو متاثر کرتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں کے نیچے سے گزرنے والی متحرک فالٹ لائنز کو دیکھتے ہوئے ملک کو زلزلے کے اعتبار سے انیس زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انیس میں سے سات ایسے زون ہیں جہاں کسی بھی وقت زلزلے کے شدید جھٹکے آ سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک زون میں شمالی علاقے، مکران، کوئٹہ ریجن اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اکثر علاقے شامل ہیں۔ان زونز میں آنے والے بڑے شہروں میں کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ گلگت اور چترال شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کم خطرناک زون میں اسلام آباد اور سالٹ رینج کے علاقے آتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ ہیں اور اس کے علاوہ تقریباً سارے ملک کے نیچے سے زلزلے کا باعث بننے والی فالٹ لائنز گزرتی ہیں۔

اسی بارے میں