پاکستان:ہم جنس پرستوں کی ویب سائٹ پر پابندی

  • 26 ستمبر 2013
Image caption اس ویب سائٹ کو ہم جنسی پرستوں کے مسائل اور انھیں مشورے دینے کےلیے شروع کیا گیا تھا

پاکستان میں ہم جنس پرستوں میں آگاہی اور ان کی مدد کے لیے بنائی گئی پہلی باضابطہ ویب سائٹ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ویب سائٹ کو پانچ سو سے ایک ہزار افراد روزانہ دیکھتے تھے۔

خیبر ایجنسی میں’گے میرج‘

اسے چار ماہ قبل شروع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک اس پر مستقل آنے والے صارفین کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔

بی بی سی نے اس سلسلے میں پی ٹی اے کے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس ویب سائٹ کے خالق نے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمونیکیشن نے اس ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے۔ جب اس ویب سائٹ کو کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ پیغام ملتا ہے ممنوعہ مواد کے پیشِ نظر اس ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ پر کوئی قابل اعتراض مواد نہیں تھا اور ’اسے بند کرنے کا پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی کا فیصلہ غیر آئینی اور آزادی رائے کے حق کے خلاف ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ’زیادہ تر ہم جنس پرست ہی اس ویب سائٹ کو استعمال کرتے تھے جس میں صحت سے متعلق امور کے بارے میں مشورے دیے جاتے تھے کیونکہ پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے معاملات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘۔

Image caption ویب سائٹ کو اس ’ہمیں سمجھنے کی کوشش کریں‘ کے نعرے سے شروع کیا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ وہ معاشرے میں منفی ردعمل کے باعث عدالتوں سے رجوع نہیں کریں گے لیکن انھوں نے انسانی حقوق اور سماجی نتظیموں کے ذریعے آزادی رائے کے حق کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ ایک سال سے یوٹیوب اور کچھ بلوچ تنظیموں کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں