بلوچستان زلزلہ: ہلاکتیں 349، فوجی ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے صوبے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 349 ہوگئی ہے جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ زلزلے کے 48 گھنٹے بعد بھی امدادی ٹیمیں کچھ متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

ادھر جمعرات کو زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں نامعلوم مسلح افراد نے امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے پاکستانی فوج کے میجر جنرل ثمریز سالک کے ہیلی کاپٹر پر راکٹوں سے حملہ کیا، تاہم وہ محفوظ رہے۔

’کہاں دستک دیں، خود کو بھی مار لیں گے‘

پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

متاثرینِ زلزلہ کی مشکلات، تصاویر

صوبائی حکومت کے ترجمان جان محمد بلیدی نے جمعرات کو بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ 349 ہلاکتوں کے علاوہ زلزلے سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 619 ہے۔

منگل کی شام آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے حکام کے مطابق آواران، کیچ، خاران، پنجگور اورگوادر کے علاقے متاثر ہوئے ہیں اور آواران اور کیچ میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

Image caption ایک ہزار فوجی جوان اور چھ ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں

آواران اور اس کی تحصیل ماشکے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے بدھ کو رات گئے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق صرف ضلع آواران میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 305 ہے جبکہ وہاں 440 افراد زخمی ہوئے ہیں

اس کے علاوہ کیچ میں 43 افراد کی ہلاکت اور 73 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زلزلے سے آواران میں 20 ہزار جبکہ کیچ میں ایک ہزار مکانات یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق آواران میں اس زلزلے کے بعد مختلف شدت کے 15 ’آفٹر شاکس‘ بھی آ چکے ہیں جس سے متاثرینِ زلزلہ میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے 29 ٹرک بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ 31 ڈاکٹر اور فوج کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی متاثرہ علاقے میں کام کر رہی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایک ہزار فوجی جوان اور چھ ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

جمعرات کو ہی قومی اسمبلی میں زلزلے سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ زلزلے سے صوبے میں پانچ سو کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہواہے اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں 48 گھنٹے بعد بھی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لاجسٹک سپورٹ سب سے اہم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے تمام وسائل بُروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے زیر انتظام جتنے بھی ادارے ہیں وہ تمام امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹرز بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انسداد منشیات ڈویژن کے پاس جتنے بھی ہیلی کاپٹرز ہیں وہ بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے علاقے جہاں پر سیاسی بےچینی پائی جاتی ہے وہاں پر سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔

دوسری طرف بلوچستان کے علاقے آواران میں پاکستانی فوج کے ایک ہیلی کاپٹر پر دو راکٹ داغے گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے عسکری ذرائع کے مطابق ان راکٹوں کا ہدف بلوچستان میں امدادی آپریشن کے انچارج میجر جنرل ثمریز سالک کا ہیلی کاپٹر تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ہیلی کاپٹر میں این ڈی ایم اے کے سربراہ بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا لیکن سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان ماضی میں بھی زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل یہاں 1935 میں ایک شدید زلزلہ آیا تھا جس نے کوئٹہ شہر کو تباہ کر دیا تھا۔ اس زلزلے میں 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں