بلوچستان: ہلاکتیں 355، فوج پر حملے اور ’امداد کی کمی‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں زلزلے سے ہلاک ہونے والے کی تعداد 355 ہو گئی ہے جبکہ سکیورٹی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے دوران قوم پرستوں کے حملوں کا بھی سامنا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ زلزلے کے 48 گھنٹے بعد بھی امدادی ٹیمیں کچھ متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچ سکیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 355 ہو گئی ہے اور 619 افراد زخمی ہیں اور تقریباً 21 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

’کہاں دستک دیں، خود کو بھی مار لیں گے‘

پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ

متاثرینِ زلزلہ کی مشکلات، تصاویر

دوسری جانب پاکستان کی فوج کے ترجمان کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں سکیورٹی فورسز کی امدادی کارروائیوں پر دو بار حملہ کیا گیا۔

فوج کے مطابق جمعرات کو زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں نامعلوم مسلح افراد نے امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے پاکستانی فوج کے میجر جنرل ثمریز سالک کے ہیلی کاپٹر پر راکٹوں سے حملہ کیا، تاہم وہ محفوظ رہے۔

منگل کی شام آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے حکام کے مطابق آواران، کیچ، خاران، پنجگور اورگوادر کے علاقے متاثر ہوئے ہیں اور آواران اور کیچ میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔

Image caption ایک ہزار فوجی جوان اور چھ ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں

آواران اور اس کی تحصیل ماشکے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق جمعرات کی شام تک آواران میں 311 ہلاکتوں اور 440 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ کیچ میں 43 افراد کی ہلاکت اور 73 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زلزلے سے آواران میں 20 ہزار جبکہ کیچ میں ایک ہزار مکانات یا تو تباہ ہوگئے ہیں یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

ادارے کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں مختلف شدت کے 15 ’آفٹر شاکس‘ بھی آ چکے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے 29 ٹرک بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ 31 ڈاکٹر اور فوج کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی متاثرہ علاقے میں کام کر رہی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایک ہزار فوجی جوان اور چھ ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

جمعرات کو ہی قومی اسمبلی میں زلزلے سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ زلزلے سے صوبے میں پانچ سو کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہواہے اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں 48 گھنٹے بعد بھی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ لاجسٹک سپورٹ سب سے اہم مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے تمام وسائل بُروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے زیر انتظام جتنے بھی ادارے ہیں وہ تمام امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹرز بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انسداد منشیات ڈویژن کے پاس جتنے بھی ہیلی کاپٹرز ہیں وہ بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسے علاقے جہاں پر سیاسی بےچینی پائی جاتی ہے وہاں پر سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔

زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں پہنچنے والے ایک امدای تنظیم کے کارکن نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں اب بھی کئی زخمی افراد اپنے مکانات کے ملبے پر پڑے ہیں اور ان کو طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ پینے کے پانی کی شدید کمی ہے اور چھوٹے بچوں کے لیے خوراک دستیاب نہیں کیونکہ لوگوں کا سارا سامان زلزلے سے منہدم ہونے والے مکانات کے ملبے تلے دب گیا ہے۔

اسی بارے میں