’امدادی کارروائیوں کی آڑ میں کارروائی نہیں ہوگی‘

Image caption حکومتِ بلوچستان نے بھی تمام بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سے کارروائیں روکنے کی اپیل کی تھی

پاکستان میں ریاستی اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے زلزلے کے علاقوں میں علیحدگی پسند بلوچوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ فوج علاقے میں امدادی کارروائیوں کی آڑ میں اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آواران اور دیگر علاقوں میں موجود بلوچ علیحدگی پسندوں کو علاقے کے بااثر شخصیات کے ذریعے اس ضمن میں پیغام بھی بھجوائے گئے ہیں کہ اس علاقے میں فوج کوعلیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

زلزلہ زدگان تین دن بعد بھی امداد کے منتظر

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس پیشکش کا مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور علیحدگی پسند گروہوں کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ امدادی کاموں میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔

خیال رہے کہ زلزلے کے فوراً بعد اس علاقے میں سرگرم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ علاقے میں بین الاقوامی امدادی اداروں کا تو خیر مقدم کریں گے لیکن اگر پاکستانی فوج یا پاکستانی سیاست دانوں نے اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی تو انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔

اس بیان کے بعد جمعرات کو آواران میں سکیورٹی فورسز کی امدادی کارروائیوں پر دو بار حملہ کیا گیا اور نامعلوم مسلح افراد نے امدادی کاموں کی نگرانی کرنے والے پاکستانی فوج کے میجر جنرل ثمریز سالک کے ہیلی کاپٹر پر راکٹ داغے، تاہم وہ محفوظ رہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی، اس وقت وہ بھی دوسرے ہیلی کاپٹر میں موجود تھے اور اُنہوں نے ہیلی کاپٹر نیچے اُترنے کے بعد معلومات حاصل کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ فائرنگ فوج کے ہیلی کاپٹر پر ہی کی گئی کیونکہ جب اُن کا اپنا ہیلی کاپٹر نیچے اُترا اُس وقت بھی فائرنگ ہو رہی تھی ۔

عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ پورے علاقے میں لوگوں کی خواہش ہے کہ فوج علاقے میں موجود رہے اور امدادی کاموں کی نگرانی کرے جو کہ خوش آئند بات ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں ہی کہا تھا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سے کچھ میں سیاسی بےچینی پائی جاتی ہے اور وہاں پر سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جائے گا۔

بلوچستان میں زلزلے سے جو علاقہ متاثر ہوا ہے وہاں علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کا خاصا اثر ہے اور جمعرات کو حکومتِ بلوچستان نے بھی تمام بلوچ علیحدگی پسند گروہوں سے اپیل کی تھی کہ وہ لوگوں کی مشکلات دیکھتے ہوئے اپنی کارروائیاں روک دیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومتِ بلوچستان کے ترجمان جان محمد بلیدی نے کہا کہ حملوں سے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی آپریشن میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچے مدد چاہتے ہیں اور ’اگر حملے جاری رہے تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے‘۔

اسی بارے میں