اقوام متحدہ پر عالمی رائے مضبوط مگر پاکستانی لاتعلق

Image caption زیادہ عمر کے لوگوں کی بجائے نوجوانوں کی وقام متحدہ کے بارے میں زیادہ مثبت رائے سامنے آئی ہے

ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا کے زیادہ تر ممالک میں لوگوں کی اقوام متحدہ کے بارے میں مثبت رائے قائم ہے۔

دنیا کے 39 میں سے 22 ممالک میں لوگوں کی اکثریت اقوام متحدہ کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہےجبکہ پاکستانیوں کی اکثریت نے عالمی ادارے کے بارے میں کسی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

ایران اور پاکستان سب سے منفی اثر رکھنے والے ملک

امریکہ کی ساکھ بہتر، پاکستان کی بدتر

واشنگٹن کے پیو ریسرچ سینٹر نے 39 ممالک میں رواں سال دو مارچ سے یکم اپریل تک کیے جانے والے سروے میں سینتیس ہزار چھ سو ترپین افراد سے ان کی رائے پوچھی اور اس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 68 ویں اجلاس کے موقع پر جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ سروے شام میں مبینہ کیمیائی حملے اور اس کے بعد کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے میں اقوام متحدہ کے کردار سے پہلے کیا گیا تھا۔

مجموعی طور پر 39 ممالک میں سروے کے دوران 59 فیصد لوگوں کی رائے مثبت تھی جبکہ 27 فیصدنے منفی رائے دی۔

روس میں عالمی ادارے کے بارے میں رائے تقریباً مثبت ہی رہی جبکہ چین میں لوگوں کی رائے منقسم تھی۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور فلسطین، اردن اور ترکی میں عالمی ادارے کے بارے میں منفی رائے کا رجحان زیادہ رہا۔

اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے اور یہاں سب سے زیادہ 84 فیصد عوام نے عالمی ادارے کی حمایت کی ہے۔ انڈونیشیا اور فلپائن میں سروے کے دوران تقریباً دس میں آٹھ افراد نے عالمی ادارے کے حق میں بات کی اور اس کے علاوہ افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے زیادہ تر ممالک میں اقوام متحدہ پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

سروے کے مطابق زیادہ عمر کے لوگوں کے برعکس نوجوان افراد اور پڑھے لکھے طبقے کی اقوام متحدہ کے بارے میں زیادہ مثبت رائے ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ جس کے شہر نیویارک میں عالمی ادارے کے مرکزی دفتر ہے، یہاں دس میں سے چھ مثبت رائے ہے جبکہ ری پبلکن کے برعکس حکمراں جماعت ڈیموکریٹس کے حمامیوں کی زیادہ مثبت رائے ہے۔

سروے کے مطابق ایشیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں جاپان اور چین میں اقوام متحدہ کے بارے میں رائے منقسم ہے۔

چین جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر ہے، یہاں عالمی ادارے کے بارے میں پائی جانے والے مبثت تاثر سال دو ہزار سات کے مقابلے میں تیرہ فیصد کم ہو کر 39 فیصد ہو گیا ہے جبکہ جاپان میں مثبت رائے کے حامی افراد کی تعداد 45 فیصد ہے۔

یہ سروے پاکستان میں بھی کیا گیا ہے اور یہاں سروے میں شامل اکثریت 61 فیصد نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان میں ایک سو افراد میں سے پانچ کی رائے مثبت، تیرہ کی کسی حد تک مثبت، آٹھ کی کسی حد تک منفی اور بارہ کی بالکل منفی رائے تھے جبکہ 61 نے اپنی رائے کا اظہار کرنے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں