پشاور: بم دھماکے میں38 افراد ہلاک، 92 زخمی

Image caption پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں

خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں دھماکے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 92 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکہ صبح گیارہ بجے قصہ خوانی بازار میں پولیس تھانے کے قریب ہوا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی تھانے سے کوئی دس گز دور مسجد اور مسافر خانے کے ساتھ پارک کی گئی۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں دو سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بڑی مقدار میں کیلیں اور چھرے رکھے گئے تھے۔

ایک ہی خاندان کے بارہ افراد ہلاک

پشاور میں دھماکہ، تصاویر

اور اب سرکاری ملازمین کی بس نشانہ، 17 ہلاک

پشاور: چرچ پر حملے سے ہلاکتیں 84 ہو گئیں

نامہ نگار کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ پشاور میں آٹھ دنوں میں تین بڑے دھماکوں میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دھماکے کے بعد گاڑیوں کو آگ لگ گئی اور کوئی بیس سے پچیس قریب واقع دکانیں مکمل تباہ ہو گئی ہیں۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا یہاں سے قصہ خوانی بازار شروع ہوتا ہے ۔ اس جگ پر زیادہ تر کتابوں اور سٹیشنری کی دکانیں ہیں جبکہ ساتھ ہی کھانے پینے کے سٹالز اور چھوٹی دکانیں ہیں جو تقریبا جل گئی ہیں یا جزوی تباہ ہو چکی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’میں جب موقعہ پر پہنچا تو ایسا لگا جیسے کسی نے لاشوں کا ڈھیر لگا دیا ہو۔ ایک سوزوکی پک اپ میں خواتین اور بچے بیٹھے تھے اور سب وہیں جل چکے تھے۔‘

ایک نوجوان نے اس موقع پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مقام پر جوس پینے آ ہی رہے تھے کہ کسی وجہ سے رک گئے اور اس دوران دھماکہ ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں پر لوگوں کے جسم کے حصے جیسے کسی کا پیر تو کسی کا ہاتھ پڑا تھا۔

اس حملے کا اصل نشانہ کون تھا یہ معلوم نہیں ہو سکا۔ جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے اس جگہ پر ایک مسجد ہے، مسافر خانہ ہے اور خان رازق پولیس سٹیشن اس مقام سے دس گز دور واقع ہے

Image caption پوری گاڑی کو بم میں تبدیل کر دیا گیا تھا

اس حملے کی ذمہ داری تحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ انھوں نے یہ کارروائی نہیں کی ہے اور جس کسی نے بھی کی ہے وہ اس حملے کی مذمت کرتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد سیاسی رہنما جائے وقوعہ پر اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچ کر حملے کی مذمت کرتے رہے جبکہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ہر جماعت کا رہنما اپنی جماعت کی پالیسی کے مطابق بیان دیتے رہے۔

خیبر پختون خوا کے اے آئی جی پولیس شفقت ملک نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھماکا بارود سے بھری گاڑی میں ہوا۔ ’اس دھماکے میں استعمال ہونے والی پوری گاڑی کو بم میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور لگتا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ اس بم دھماکے میں دو سو سے سوا دو سو کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بارود سے بھری گاڑی پولیس سٹیشن سے فاصلے پر واقع ایک مسافر خانے کے قریب کھڑی کی گئی تھی اس لیے انھیں نہیں لگتا کہ اس کا ہدف پولیس سٹیشن تھا۔

دھماکا اتوار کی صبح قصہ خوانی بازار میں خان رازق پولیس سٹیشن کے قریب ہوا جس کے بعد کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔فائر بریگیڈ کے عملے نے آگ پر قابو پا لیا ہے۔

Image caption دھماکے سے گاڑیوں اور قریبی دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے

یاد رہے کہ پشاور میں گذشتہ سات دنوں کے اندر یہ بم دھماکوں کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

جمعے کو پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے میں کم از کم 17 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

پشاور پولیس کے مطابق کہ یہ دھماکہ جمعہ کی دوپہر گل بیلہ کے علاقے میں چارسدہ روڈ پر ایک بس میں ہوا تھا جس میں سرکاری ملازمین سوار تھے۔

اسی طرح پشاور میں اتوار کے روز کوہاٹی گیٹ چرچ پر دو خود کش حملوں کے نتیجے میں چوراسی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے تھے جب عسیائی مذہب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد عبادت کے لیے چرچ میں موجود تھے۔

اسی بارے میں