خاندان کے بارہ افراد دھماکے میں ہلاک

شادی کے بلاوے کے لیے شبقدر سے پشاور آنے والے خاندان کے بارہ افراد قصہ خوانی کے دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس خاندان کے ایک شخص کو ہسپتال میں مردہ قرار دے کر جب قبرستان لایاگیا تو معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہیں۔

سہراب کی عمر لگ بھگ پچیس برس ہے اور وہ اپنے خاندان کی خواتین کے ساتھ اتوار کو پشاور میں رشتہ داروں کو شادی کا بلاوا دینے آئے تھے۔

تصاویر: پشاور میں کار بم دھماکہ

اس خاندان کے ایک سربراہ ملک تاج نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام میتوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی تھی اور سہراب کو قبرستان تدفین کے لیے لے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب میت سمجھ کر سہراب کو لحد میں اتارا جا رہا تھا تو اسی وقت معلوم ہوا کہ سانسیں چل رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ سہراب کی حالت تشویش ناک ہے لیکن انھیں دوبارہ پشاور ہسپتال روانہ کر دیا گیا ہے۔

اس خاندان کے سولہ سے زیادہ افراد ایک پک اپ گاڑی میں اتوار کی صبح رشتہ داروں کو شادی کا بلاوا دینے آئے تھے۔گاڑی قصہ خوانی بازار میں جوس کی دکان کے سامنے کھڑی تھی جب قریب کھڑی گاڑی میں دھماکہ ہوگیا۔

ملک تاج نے بتایا کہ اس گاڑی میں چودہ خواتین، دو مرد اور بچے سوار تھے اور روایات کے مطابق خاندان کے سب افراد کا شادی کا بلاوا دینے جانا ضروری تھا وگرنہ پھر خاندن کے لوگ گلے شکوے کرتے ہیں۔

اس دھماکے میں ملک تاج کی والدہ، بیوی، دو بچے، دو بہنوں اور ایک بھائی سمیت خاندان کے بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن کی تدفین کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے خاندان کے کچھ افراد زخمی ہیں اور کچھ کا پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں ہیں۔

یہ خاندان چارسدہ کے قریب شب قدر کے علاقے مٹہ بارو خیل کا رہائشی ہے۔ ان کے خاندان کے ایک نوجوان دل راج کی بیس اکتوبر کو شادی کی تاریخ مقرر تھی۔

اس خاندان کے افراد جس گاڑی میں سوار تھے وہ مکمل تباہ ہوگئی۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اس گاڑی میں سوارافراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

جائے وقوعہ پر موجود لوگ اسی گاڑی میں سوار خاندان کے افراد کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آ رہے تھے۔ گاڑی میں خواتین اور بچوں کے جوتے پڑے تھے۔

ملک تاج نے بتایا کہ انھیں تقریباً ساڑھے بارہ بجے اپنے بھائی عدنان کے ٹیلیفون سے کسی شخص نے فون کیا اور پوچھا کہ کیا تم اس نمبر کو جانتے ہو تو انھوں نے کہا کہ ہاں یہ ان کے بھائی کے موبائل فون کا نمبر ہے تو پھر اس شخص نے بتایا کہ آپ پشاور پہنچیں آپ کے خاندان کے افراد ایک دھماکے کا نشانہ بنے ہیں۔

ملک تاج کے مطابق یہ وقت ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ وہ اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ پشاور ہسپتال پہنچے تو انھیں معلوم ہوا کہ بیشتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملک تاج دوپہر کے وقت حوصلے سے بات چیت کرتے رہے لیکن شام کے وقت جب میتوں کی تدفین ہو چکی تھی تو اس وقت وہ حوصلہ کھو چکے تھے اور بھرائی ہوئی آواز میں یہ کہہ رہے تھے کہ ان کا خاندان لٹ چکا اب ان کا کوئی بھی باقی نہیں رہا۔

اسی بارے میں