’ایف سی مدد کے لیے نہیں مارنے آ رہی ہے‘

Image caption ’جو امدادی کام ہو رہا ہے وہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں کر رہی ہیں یا پھر ایدھی فاؤنڈیشن اور ہلال احمر نے کام کیا ہے‘

بلوچستان کی علیحدگی کے لیے سرگرم تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور فوج زلزلے میں امداد اور تعاون کے نام پر فنڈ بٹورنا اور سیاست کرنا چاہتی ہے اور وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کے قریبی ساتھی منان بلوچ نے مشکے کے قریب بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ اس وقت وہ پاکستان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کی طرف سے کوئی مدد قبول نہیں کریں گے۔

عالمی امدادی تنظیموں کا خیرمقدم کریں گے

’امداد نہیں دیتے تو نہ دیں، ماریں تو نہیں‘

خیال رہے کہ بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم فرنٹیئر کور کی نگرانی اور حفاظت میں کی جا رہی ہے، جس کی مزاحمت کار مخالفت کر رہے ہیں۔

روایتی دیہی انداز کے اس رہنما کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستانی فوج چاہے ایف سی کی شکل میں کیوں نہ ہو، مدد کے لیے نہیں بلکہ انہیں مارنے کے لیے آ رہی ہے۔‘

منان بلوچ نے مشکے میں فائرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایف سی یہاں کوئی مدد نہیں کر رہی بلکہ گزشتہ دو روز سے شیلنگ کر رہی ہے اور ان کے لیے جو امداد آ رہی ہے اسے روکا جا رہا ہے۔‘

مقامی نوجوانوں میں مقبول ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا تھا کہ جو مقامی یا بین الاقوامی تنظیمیں یا ممالک بلوچ عوام کی مدد کرنا چاہتی ہیں وہ علیحدگی پسند تنظیموں کے ذریعے مدد کر سکتی ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ مشکے اور آس پاس کے علاقوں میں جو امدادی کام ہو رہا ہے وہ بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دوسری علیحدگی پسند تنظیمیں کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق ’ان کے علاوہ تھوڑی بہت کسی نے مدد کی ہے تو وہ ایدھی فاؤنڈیشن اور ہلالِ احمر ہیں جن سے بی این ایم کی جانب سے اپیل کی گئی تھی۔‘

منان بلوچ کے مطابق علیحدگی پسندوں کی جانب سے علاقے میں امدادی کام کرنے والی یا اس کی خواہشمند تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

’ہم اس وقت لڑ نہیں رہے اور کسی کو مار نہیں رہے، یہاں جو تنظیمیں آرہی ہیں ان کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی مارا ہے بلکہ ہم نے تو تمام تنظیموں کو دعوت دی ہے کہ وہ یہاں آکر کام کریں، لیکن اوپر سے آکر کوئی شیلنگ کرے یا زمین سے گولیاں برسائے تو یقیناً پھر ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘

مشکے میں چند روز قبل نیشنل ڈزاسٹر مینمجنٹ اتھارٹی کے ایک ہیلی کاپٹر پر راکٹ سے حملے کی بھی خبریں سامنے آئی تھیں۔

ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا تھا کہ یہاں پر جتنے بھی ہیلی کاپٹر آئے ہیں، گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں کیا پتہ کہ وہ این ڈی ایم کا ہیلی کاپٹر تھا، فوج کا تھا یا وزیراعلیٰ کا۔

’جو ہیلی کاپٹر اس علاقے میں آیا اس نے شیلنگ کی ہے، اب وہ خود جواب دیں کہ انہوں نے شیلنگ کیوں کی، اگر وہ ریلیف کے لیے آ رہے ہیں تو پھر مارتے کیوں ہیں یا شیلنگ کیوں کرتے ہیں۔‘

اسی بارے میں