پشاور: ہلاکتیں 42، ’مزید حملوں کا خطرہ ہے‘

Image caption پشاور میں 22 ستمبر اتوار سے اب تک ہونے والے تین بڑے بم حملوں میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں اتوار کو ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے جبکہ صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی نے کہا ہے کہ پشاور میں مزید حملوں کا خطرہ ہے جنہیں روکنے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے قصہ خوانی میں دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔

مقامی پولیس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ قصہ خوانی بازار میں گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکے میں 90 لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایک ہی خاندان کے بارہ افراد ہلاک

پشاور: بم دھماکے میں38 افراد ہلاک، 92 زخمی

پشاور میں دھماکہ، تصاویر

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے، تاہم زخمیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی زیر ِعلاج ہے۔ ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق اس واقعے میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔

پیر کو قصہ خوانی بازار میں جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران آئی جی پولیس نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے پہلے جو لوگ حملے کرتے آئے ہیں اب انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔ حملہ آور پہلے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بناتے تھے لیکن اب وہ سافٹ ٹارگٹ یعنی کمزور لوگوں پر حملے کر رہے ہیں جیسے بازاروں میں عام شہریوں کو ، چرچ میں اور بسوں میں معصوم لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔‘

ناصر درانی کے مطابق اب انہوں نے سکیورٹی کے لیے بڑے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور اب بم ڈسپوزل سکواڈ یا دھماکہ خیز مواد کو سونگھ کر نشاندہی کرنے والے کتوں (سنفرز ڈاگ) کا استعمال اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کے تحفظ کے لیے بھی ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پشاور میں مزید حملوں کا خطرہ پایا جاتا ہے اور ان حملوں یا دھماکوں کو روکنے کے لیے وہ اقدامات کر رہے ہیں۔

گذشتہ شب چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہزاد ارباب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پشاور شہر کو چار زونوں میں تقسیم کر کے شدت پسندوں کی تلاش کے لیے شہر میں قائم مسافر خانوں ، ہوٹلوں اور بعض رہائشی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا جائے گا۔

اتوار کو ہونے والا دھماکہ صبح گیارہ بجے قصہ خوانی بازار میں پولیس تھانے کے قریب کھڑی کی گئی گاڑی میں ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق گاڑی میں دو سو کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد کے علاوہ بڑی مقدار میں کیلیں اور چھرے رکھے گئے تھے۔

پشاور میں 22 ستمبر سے اب تک ہونے والے تین بڑے بم حملوں میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں