ایم آر ڈی: جمہوریت کا پُل

ایم آرڈی کے کئی رہنما
Image caption سات فروری انیس سو اکیاسی کو ستر کلفٹن کراچی میں ایم آر ڈی کے اعلان کے موقع پر (بائیں جانب سے) بیگم نصرت بھٹو، شیر باز مزاری، محمود علی قصوری، معراج محمد خان اور نوابزادہ نصراللہ خان

پاکستان میں تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی نے اُس دور میں سیاست اور سیاسی احتجاج کی روایت قائم کی جب وقت کے آمر نے ملک میں سیاست کو ختم کر نے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی۔ اگر جنرل محمد ضیاء الحق کا مارشل لاء اس سے قبل کی ایوب خانی اور یحییٰ خانی آمریتوں کا تواتر تھا تو ایم آر ڈی اُس جمہوری جدوجہد کا تسلسل تھی جو پاکستانی عوام نے اس سوچ کے خلاف برپا کی جو ملک کو فوجی تسلط اور مذہبی رجعت میں جکڑ دینا چاہتی تھی۔

ناقدوں کا یہ کہنا کہ ایم آر ڈی ضیاء الحق کو اُتار پھینکنے میں ناکام رہی، کسی حد تک درست ہے۔ مگر ایم آر ڈی کی کامیابی یہ تھی وہ ضیاء کی مکمل فتح اور جمہوریت کی فاش شکست کے بیچ حائل ہو گئی۔ جنرل ضیاء نے عدلیہ، فوج اور چند سیاستدانوں کے ذریعے جس غیر سیاسی اور مذہبی قدامت پر مبنی ریاست کو تشکیل دینا چاہا ایم آر ڈی اس کے راستے میں ہر جائز رکاوٹ ڈالتی گئی اور یوں ضیاء الحق کو مکمل فتح سے محروم رکھا۔ اگر جنرل ضیاء کو وقتی طور پر عدالتی تحفظ ملا بھی تو اس کے باوجود وہ عوامی تائید سے تا دم مرگ محروم رہے۔

ان کی موت کے ربع صدی بعد بھی ان کے کسی قدم کو آج تک اخلاقی اور بھرپور قانونی جواز نہیں مل سکا ہے اور جنرل ضیاء کی عمومی پہچان ایک غاصب اور ظالم کی حیثیت سے ہے، دیدہ ور اور مقبول رہنما کی طرح نہیں۔ یہ فرق واضح کرنا ایم آر ڈی کی جدوجہد اور اس کے کارکنوں، رہنماؤں اور ان کے اعزاء و اقرباء کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔

جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں پاکستان قومی اتحاد کے عروج کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے بانی اور اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔

جنرل ضیاء کی بھرپور کوشش تھی کہ پی پی پی کو مزید اکیلا کیا جائے اور چار سیاسی پارٹیوں نے جنرل ضیاء کی وزارتیں قبول کر لیں۔ جنرل ضیاء چاہتے تھے کہ وہ سیاست دانوں سے اپنے بیشتر اقدامات اور خاص طور پر بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کی توثیق کروا لیں۔

بعد ازاں جنرل ضیاء نے مختلف پینتروں سے سیاستدانوں کو اپنی حکومت سے نکال باہر کیا۔ سیاستدان بری طرح بٹ گئے اور جنرل ضیاء اپنے اقتدار کو آسانی سے طول دیتے اور انتخابات کروانے کے وعدے کو ٹالتے چلے گئے۔

جنرل ضیاء کے قبیح عزائم ان کے اُس بیان سے کھل کر سامنے آئے جو انہوں نے 1978 میں تہران میں دیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے، چند ورقے ؟ اگر میں اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دوں اور ایک نیا نظام نافظ کردوں تو سب کو وہ ماننا پڑے گا۔ طاقت کے نشے میں جنرل ضیاء نے مزید کہا تھا کہ سیاستدان بشمول سب جغادری لیڈر (یعنی بھٹو صاحب ) پھر بھی دُم ہلاتے میرے پیچھے آئیں گے ۔

مگر ایسا نہ ہوا۔

اولاً بھٹو صاحب جان سے گزر گئے مگر انہوں نے ضیاء کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے۔ ثانیاً سیاستدان اس بات سے آگاہ ہو گئے تھے کہ منصوبہ سیاست کو پاک کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کو سیاست ہی سے پاک کرنے کا ہے۔ جنرل ضیاء عوام سے کیے گئے وعدوں سے مکرتے رہے۔ نوے دن میں انتخابات کا عہد بارہا توڑا گیا۔ ایسے میں بیگم نصرت بھٹو اور نیشنل ڈیموکریٹک (این ڈی پی) کے صدر سردار شیر باز خان مزاری کے درمیان سنجیدہ مشاورت شروع ہوئی۔ سردار مزاری اس سے قبل خان عبدل ولی خان اور مولانا مُفتی محمود سے بھی صلاح مشورہ کر چکے تھے تاکہ سیاسی قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جا سکے۔

بھٹو صاحب اور بیشتر سیاسی رہنما بالخصوص نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں میں جو سیاسی اور ذاتی چپقلش رہی تھی اس کی وجہ سے یہ بظاہر ایک ناممکن نہیں تو بیحد مشکل کوشش تھی۔ بہرحال سردار مزاری کی مساعی بارآور ہوئیں اور چار بنیادی نکات بشمول 1973 کے آئین کی اپنی اصلی شکل میں بحالی کے لیے جدوجہد کرنے پر ان کا اور بیگم نصر ت بھٹو کا اتفاق ہو گیا۔ اور جیسا کہ سردار مزاری نے خود لکھا ہے 5 فروری 1981 کو ایم آر ڈی وجود میں آ گئی۔ دیگر جماعتوں نے فوراً اس کی توثیق کر دی اور پہلے ہی روز کُل نو پارٹیاں تحریک کا حصہ بنیں۔

ایم آر ڈی کی اولین کامیابی گویا پی پی پی کی اس سیاسی تنہائی کا خاتمہ تھا جو نہ صرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیے خطرناک تھی بلکہ جس کے سیاسی دھارے سے باہر رہنے کی صورت میں خود سیاسی عمل کے لیے مہلک تھی۔

ایم آر دی نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے مگر سیاستدانوں کے مل کر کام کرنے کی جو روایت انیس سو اکیاسی میں پڑی وہ بعد کی مخلوط حکومتوں میں بہتر آشکارا ہوئی۔ جنرل ضیاء کی موت کے بعد ہونے والے پہلے انتخاب گو ایم آر ڈی کی جماعتوں نے ایک پلیٹ فارم سے نہیں لڑا مگر اس کے نتیجے میں بننے والی مرکزی اور صوبہ سندھ اور خیبر پختونخوا (سابقہ صوبہ سرحد) کی حکومتیں مخلوط تھیں۔ اس سیاسی تدبر اور بردباری کی بہترین مثال پی پی پی اور اے این پی کی سنہ 2008 تا 2012 کی مخلوط حکومت تھی۔ ایم آر ڈی سے قبل شاید یہ تصور بھی نہ کیا جا سکتا ہو کہ ’نیپ‘ اور این ڈی پی کی وارث جماعت اے این پی اور پی پی پی کبھی اکھٹے حکومت کریں گی۔ یہ سیاسی پختگی اس اساس پر قائم ہوئی جو 1981 میں ایم آر ڈی نے فراہم کی۔

اپنے قیام کے پہلے دو سالوں میں ایم آر ڈی متفرق مسائل کا شکار رہی اور کوشش کے باوجود کسی مربوط حکمت عملی کے تحت تحریک کو آگے بڑھانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ حبیب جالب نے شاید ایسے ہی موقع کے لیے کہا تھا :

نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا عصا اٹھاؤ کہ فرعـون اسـی سے جائے گا

ایم آر ڈی کی انیس سو تراسی میں چلنے والی تحریک کے بارے میںکافی کچھ بی بی سی اردو کے صفحات پر لکھا جا چکا ہے مگر یہاں اتنا کہنا ضروری ہے کہ 1983 کی تحریک رہنماؤں کی نہیں بلکہ کارکنوں کی تحریک تھی جسے انھوں نے اپنے خون سے سینچا۔ وقت کا فرعون بیشک نہ گیا مگر وہ یہ ضرور جان گیا کہ اس کا تخت محفوظ نہیں کیونکہ عوام کی خواہشات اور اس کی سوچ میں جو بعدالمشرقین تھا وہ اس کو طاقت کے ذریعے بھی نہیں پاٹ سکا تھا۔ اس تحریک کا سب سے بڑا ثمر یہ تھا کہ بیشتر سیاسی قائدین اس بات پر متفق تھے اور متفق رہے کہ ضیاء کے مختلف اقدامات کو سیاسی قبولیت اور جواز نہیں دینا ہے چاہے وہ 1984 کا بدنام زمانہ استصواب ہو یا 1985 کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والےانتخابات۔

Image caption ڈاکٹر تقی کی طالب علمی کے زمانے میں جام ساقی سے ملاقات تب ہوئی جب وہ 1987 میں پشاور آئے تھے

میری پود کے لوگوں کے لیے ایم آر ڈی ایک سیاسی درسگاہ تھی۔ انیس سو تراسی میں اخبارات اور پمفلٹ وغیرہ دیکھ کر اس تحریک کے نام اور کام سے آگاہی ہوئی۔ اور پھر ذرا ہوش سنبھالا تو اسی تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں سے براہ راست کسب فیض کیا۔ اگر یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہو گا کہ کئی لوگوں نے ایم آر ڈی کے کارکنوں کی انگلی پکڑ کر میدان سیاست میں پاؤں پاؤں چلنا سیکھا۔ سیاسی مطالعے کے حلقے ہوں یا جلسے جلوس کے آداب اور تحریک چلانے کے داؤ پیچ ، یہ بڑی حد تک ایم آر ڈی کے کارکنوں کی وراثت ہے جو انھوں نے سینہ بہ سینہ اور دست بدست اگلی پیڑھی کو عطا کی۔ جب ضیاء دور کی ظلمت پاکستان کے افق کو گھیرے ہوئے تھی یہ ایم آر ڈی کے کارکن اور رہنما تھے جو گلیوں اور محلوں میں نوجوانوں کو سیاسی آگاہی کی جلا دے رہے تھے۔

اگر ایک لفظ میں جنرل ضیاء الحق کے دور کو سمیٹا جائے تو وہ ہے: حبس۔

اس گھٹن میں ایک پروائی تھی جو چلی، ایک دیا تھا جو اس نیم تاریکی میں ٹمٹمایا۔ اگر جنرل ضیاء کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہوتا تو ممکن ہے کہ آج اندھیرے اور روشنی میں فرق معلوم ہی نہ ہوتا اور ایک سرمئی تیرگی کو ہی مقدر مان لیا جاتا۔ مارشل لاء کے گدلے دریا پر ایک پل بنا تھا جس کے بغیر مشکل ہے کہ کاروان جمہوریت منزل کی طرف سفر جاری رکھ سکتا۔

اسی بارے میں