’عام آدمی کی معیشت تباہ ہو چکی ہوگی‘

Image caption حالیہ دنوں پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدر میں نمایاں کمی آئی ہے

پاکستان میں تیل اور بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی، ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اختیار کردہ سرکاری پالیسیوں کا حصہ ہے جن پر عمل کرنے سے معیشت کو تو شاید استحکام نصیب ہو جائے لیکن عوام کے لیے مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا۔

ملک کو بیرونی ادائیگیوں کی مد میں دیوالیہ ہونے سے بچانے کےلیے نواز شریف کی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو اتنی رقم مل گئی کہ وہ پہلے سے حاصل شدہ قرضوں کی اقساط واپس کرنے کے قابل ہو گیا۔

ملکی مسائل میں نواز حکومت مفلوج: تجزیہ

پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی

’آئی ایم ایف کا پرانا قرض ادا کرنے کے لیے نیا قرض‘

تاہم اس معاہدے کے بعد ملکی کرنسی میں تیزی سےگراوٹ دیکھنے میں آئی اور حکومت نے بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔

حکومت نے یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمت میں تیس سے دو سو فیصد اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔

گو کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اس معاہدے کی بہت سی شرائط کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن بعض ماہرین کا یہ استدلال درست معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے بعض معاشی اقدامات اسی معاہدے کا نتیجہ ہیں۔

وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ضروری تھا لیکن حکومت نے یہ معاہدہ کرتے وقت غلط ترجیحات منتخب کی ہیں۔

’اس معاہدے میں بنیادی ڈیزائن کا نقص ہے۔ اس معاہدے کا مرکزی نکتہ معاشی استحکام ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملکی اقتصادی شرحِ نمو تین فیصد تک رکھی جائے گی اور رعایتی قیمت کا بتدریج خاتمہ ہوگا۔ اس کے ساتھ حکومت پاکستانی روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر بڑھانے کے لیے بھی اقدامات نہیں کرے گی۔‘

ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ آنے والے برسوں میں حکومت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے پر مجبور ہو گی۔

ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ معاشی بحران کے شکار یونان کو بھی چار برس قبل آئی ایم ایف نے اسی قسم کے ایک معاہدے کے ذریعے بحرانی کیفیت سے نکلنے میں مدد دی تھی۔

’وہاں بھی سبسڈیز یا رعایتی قیمتیں اچانک ختم کر دی گئی تھیں اور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی وجہ سے یونان دیوالیہ ہونے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ سنگین مالیاتی بحران سے تو بچ نکلا لیکن اس کے عوام کی معاشی مشکلات اب بھی جاری ہیں۔‘

ماہر معیشت اسد سعید نے کہا کہ ٹیکسوں کی مد میں آمدن نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت جس بحران کا شکار ہے اس کے پیش نظر بجلی کی قیمت میں اضافہ نا گزیر تھا۔

’حکومت مہنگی بجلی بنا کر سستی فروخت کرے گی تو وہی ہو گا جو دس سال سے ہو رہا ہے، یعنی سرکولر ڈیٹ یا گردشی قرضے بڑھیں گے، بجلی کی پیداوار متاثر ہو گی اور بجلی کی کمی شدید سے شدید تر ہوتی جائے گی۔‘

ڈاکٹر اشفاق حسن خان آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدہ کو قدیم اور فرسودہ قرار دیتے ہیں۔

’جو پروگرام پاکستان نے آئی ایم کے ساتھ معاہدے کے ذریعے حاصل کیا ہے وہ 1980 کی دہائی میں مقبول تھا، لیکن موجودہ حالات میں ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اسے معیشت کی ترقی کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔‘

ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ یہ معاہدہ معیشت میں تو استحکام لاتا ہے لیکن عام آدمی کی زندگی کو تہ و بالا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

’مہنگائی کے علاوہ اس پروگرام کی وجہ سے دس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوں گے کیونکہ اس پروگرام کی یہ بنیادی خامی ہے کہ یہ ترقیاتی کاموں کو کم کر دیتا ہے۔ پانچ سالوں میں 50 لاکھ لوگ روزگار کھو چکے ہوں گے اور اس دوران بجلی اور گیس کے بلوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہو گا۔ اس وقت حکومت کی معیشت تو شاید ٹھیک ہو جائے لیکن عام آدمی کی معیشت تباہ ہو چکی ہو گی۔‘

اسی بارے میں