کراچی:’ کالعدم تنظیموں کے چھ ارکان ہلاک‘

Image caption حکومت نے رینجرز کو کراچی میں آپریشن کے اختیارات دیے ہیں

کراچی میں پولیس اور رینجرز نے ایک مبینہ مقابلے میں کالعدم تنظیموں کے چھ ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب منگھو پیر کے علاقے میں طالبان کی موجودگی کی اطلاع پر جب رینجرز اور پولیس اہلکار وہاں پہنچے تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔

ان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو مشتبہ ملزمان ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت شہید اللہ اور خیال بادشاہ کے نام سے کی گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تین دستی بم اور تین بال کریکر برآمد کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل حب رور روڈ پر سی آئی ڈی اور مشتبہ ملزمان میں مقابلے میں چار ملزمان ہلاک ہوئے۔

سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی چوہدری اسلم نے منگل کی شب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ملزمان اسلحے سے بھری گاڑی کراچی کی جانب لا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو دیکھ کر ملزمان نے فائرنگ کی تو جوابی فائرنگ سے چار ملزمان زخمی ہوگئے جنہیں ہپستال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گئے۔

ہلاک شدگان کی شناخت عبدالرحمٰن، عارف عرف سجاد، محمد غنی اور محمد صدیق کے نام سے کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو ہی کراچی پولیس کے سربراہ شاہد حیات نے ایک پریس کانفرنس میں مسلم لیگ لائرز فورم کے رہنما نعمت اللہ رندھاوا کے قاتل سمیت سات ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ نعمت اللہ کے قاتل کاظم عباس رضوی کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور وہ اس کے یونٹ 178 کا کارکن ہے۔

شاہد حیات نے نعمت اللہ رندھاوا کے قتل کو سیاسی مقصد کے لیے ہونے والی ہلاکت قرار دیا اور بتایا کہ مقتول وکیل صحافی ولی بابر کے مقدمۂ قتل کی پیروی کر رہے تھے اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں