مشکے میں جھڑپوں سےامدادی کاروائیاں متاثر

Image caption بعض گاؤں میں لوگوں نے امدادی سامان لینے سے انکار کیا ہے: میجر جنرل سمبریز

بلوچستان کے علاقے مشکے میں صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ بلوچ مسلح تنظیموں کا الزام ہے کہ زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کی آڑ میں پاکستانی فورسز ان علاقوں کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتی ہے جو ان کے مضبوط گڑھ ہیں۔

جی او سی کوئٹہ میجر جنرل محمد سمریز سالک کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کی کارروائیاں اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔’ہم نے مخالفین کو کہا تھا کہ یہ ریلیف کا کام ہے، انہیں لوگوں کی مدد کرنے دیں وہ ان کے بھی لوگ ہیں۔ اگر وہ ایسا رویہ اختیار کریں گے تو اس سے ان کی کوششیں نہیں رک پائیں گی۔‘

مشکے میں دھماکہ، امدادی آپریشن میں شریک دو فوجی ہلاک

جگہ جگہ چوکیاں اور آزاد بلوچستان کے جھنڈے

آگے اپنے رسک پر جاؤ

مشکے کے قریب بدھ کو پیش آنے والا واقعے کو بھی پیش قدمی کی مزاحمت قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس جھڑپ میں دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چودہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد فضائی اور زمینی نگرانی میں اضافہ کیاگیا ہے۔ بدھ کو فوجی قافلہ مشرقی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا جہاں عسکریت پسند موجود ہیں اور وہاں زلزلے سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔اس سے واضح ہے کہ وہ آپریشن کے لیے جا رہے تھے۔

Image caption مشکے عسکریت پسندوں کاگڑھ سمجھا جاتا ہے

مشکے ڈاکٹر اللہ نذر کے عسکریت پسند گروپ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ زلزلے سے پہلے اس علاقے میں ایف سی کی رسائی مشکل بن چکی تھی لیکن زلزلے کے بعد فورسز اس علاقے میں دیکھی گئی ہیں۔

مشکے کے قریب منگلی کے مقام پر ایک بیس کیمپ موجود ہے، جبکہ آس پاس کی پہاڑیوں پر اہلکار تعینات ہیں۔ سنیچر کے دن ایک بڑے عرصے کے بعد ایف سی مشکے شہر میں داخل ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایف سی نے مشکے میں کچھ لوگوں کو حراست میں بھی لیاگیا۔

جی او سی کوئٹہ میجر جنرل محمد سمریز سالک نے تسلیم کیا ہے کہ آوراں ضلع میں نفری میں اضافہ کیاگیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے یہاں صرف فرنٹیئر کور کی ایک کمپنی تھی اب بڑی تعداد میں اہلکار موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مشکے میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں وہاں کچھ لوگ فوج کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور وہ انہیں بھرپور جواب دے رہے ہیں۔ میجر جنرل محمد سمریز کے مطابق شدت پسند اتنے تعداد میں نہیں جو ان کے لیے پریشانی کا سبب بن سکیں۔’ کاغد پر ایک سیاہ دھبے کو نہ دیکھیں سفید پیپر کو دیکھیں۔‘

جی سی او کوئٹہ نے تسلیم کیا ہے کہ بعض علاقوں میں لوگوں نے امدادی سامان لینے سے انکار کیا ہے۔ میجر جنرل محمد سمریز کے مطابق ڈیڑھ سو کے قریب گاؤں ہیں۔ صرف دو سے تین ایسے ہیں جہاں لوگوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔’ترتیج گاؤں میں ایف سی سے لوگوں نے سامان لینے سے انکار کیا اس کے بعد ایف سی نے ان سے بات کی اور انہوں نے سامان قبول کرلیا۔‘

مشکے کی دیواریں بلوچستان کے بزرگ قوم پرست رہنما خیر بخش مری کے اقوال سے بھری ہوئی ہیں۔منہدم گھروں سے کارل مارکس اور دیگر انقلابی رہنماؤں کی کتابیں برآمد ہوئی ہیں۔

مشکے میں پینے کے پانی، دواؤں اور خوراک کی قلت کی اطلاعات آ رہی ہیں، پاکستان فوج اور عسکریت پسندوں میں جاری جھڑپوں کے باعث متاثرین کے لیے صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں