ہنگو: طالبان کا طالبان پر حملہ، بارہ ہلاک

Image caption اس مرکز پر اس سے پہلے بھی تین حملے ہو چکے ہیں جن میں ملا نبی حنفی محفوظ رہے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے سپین ٹیل میں سرکاری ذرائع کے مطابق طالبان شدت پسندوں کے مرکز پر تین سے چار خود کش حملہ آوروں نے حملہ کیا ہے جس میں بارہ افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ مرکز ملا نبی حنفی کا بتایا گیا ہے جبکہ اس مرکز کے ساتھ رہائشی مکان بھی ہیں۔ یہ علاقہ ہنگو کی تحصیل ٹل سے آگے پاڑہ چنار روڈ پر واقع ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہ علاقہ اپر اورکزئی ایجنسی کا سمجھا جاتا ہے لیکن یہاں شمالی وزیرستان کی حدود بھی واقع ہے اس لیے اکثر اوقات سرکاری حکام اس علاقے کا کنٹرول ایک دوسرے پر ڈالتے رہتے ہیں۔

پشاور میں دھماکہ:’مزید حملوں کا خطرہ ہے‘

ہنگو: فائرنگ میں تحریک انصاف کے رہنما ہلاک

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح ساڑھے چھ بجے چار حملہ آوروں نے ملا نبی حنفی کے مرکز پر حملے کی کوشش کی اور ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی ہے پھر ایک خود کش حملہ آور نے خود کو مرکز کے قریب دھماکے سے اڑا دیا جبکہ دو کو ملا نبی حنفی کے محافظوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔

اس کے بعد مقامی لوگوں کے مطابق حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی مرکز سے ٹکرا دی۔

ذرائع کے مطابق ملا نبی حنفی کے محافظوں سمیت اس کے مرکز میں قید کچھ افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے ۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ملا نبی حنفی حکومت کا حمایت یافتہ کمانڈر ہے اور اسی لیے اس پر حملہ کیا گیا ہے۔

اس مرکز پر اس سے پہلے بھی تین حملے ہو چکے ہیں جن میں ملا نبی حنفی محفوظ رہے تھے۔

جمعرات کے حملے میں ذرائع کے مطابق ملا نبی معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں میں ایک خاتون اور ایک بچی شامل ہے۔

مقامی صحافی محمد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کے دوران دھماکوں سے شدت پسندوں کے مرکز کے قریب واقع چار مکان مکمل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ چار مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ علاقہ ٹل تحصیل سے آٹھ کلومیٹر دور ہے اس لیے سرکاری حکام یہ واضح نہیں کر پاتے کہ آیا یہاں اپر اورکزئی ایجنسی کا کنٹرول ہے، کرم ایجنسی کا علاقہ ہے اور یا یہاں شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کا اختیار ہے ۔

مقامی لوگوں کے مطابق بظاہر یہاں شدت پسندوں کی عمل داری زیادہ نظر آتی ہے۔ اس بارے میں حکام سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن یہی جواب ملتا رہا کہ صاحب میٹنگ یا جرگے میں مصروف ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس سے پہلے حکومت کے حمایت یافتہ اور طالبان مخالف لشکروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے شدت پسندی کے واقعات میں عام شہریوں اور سرکاری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان حملوں میں ایک سو چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں