وزیراعظم شریف کا اہم جوہری مرکز کا دورہ

Image caption پاکستان کے جوہری اثاثوں کی سکیورٹی پر مغرب کئی بار اپنے خدشات کا اظہار کر چکا ہے اور پاکستان ہمیشہ اس کو مسترد کرتا ہے

وزیراعظم میاں نواز کو جمعہ کو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کا معائنہ کروایا گیا اور انہیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کرنے والے نظام کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کی اعلیٰ فووجی قیادت کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد کے قریب پاکستان کی ایک اہم ایٹمی تنصیب کا دورہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی جگہ کا معائنہ کیا۔

وزیراعظم کو ایٹمی معاملات پر فیصلہ سازی کی غرض سے سٹیریٹجک کمانڈ، کنٹرول اور سپورٹ نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو ملک بھر میں موجود ایٹمی اثاثوں کو باہم مربوط کرنے اور ان اثاثوں پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنے کے نظام کا کمیپوٹر کے ذریعے مظاہرہ کرکے بھی دکھایا گیا۔

یہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب وزیر اعظم نے آئندہ چند دنوں میں ملک کی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عہدے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری کرنی ہے۔

نیشنل کمانڈ سنٹر کے دورے کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔

’پاکستان کے جوہری اثاثے مکمل طور پر محفوظ‘

’جوہری ٹیکنالوجی کے لیے رشوت لی‘

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نے اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے نیشنل کمانڈ سنٹر اور ہتھیاروں کے زخیرے کا دورہ کیا۔

وزیراعظم کے دورے کے موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں، ڈائریکٹر جنرل سٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی اور دیگر سینیئر فوجی افسران، سائنسدان اور انجینیئرز بھی دورے کے دوران موجود تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے وزیراعظم کو ایٹمی معاملات پر فیصلہ سازی کی غرض سے سٹیریٹجک کمانڈ، کنٹرول اور سپورٹ نظام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیشنل کمانڈ سنٹر مکمل طور پر محفوظ مرکز ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم کو نیشنل کمانڈ سنٹر میں ایٹمی معاملات پر فیصلہ سازی کی غرض سے مقامی طور پر تیار کردہ سٹریٹیجک کمانڈ،کنٹرول اور سپورٹ سسٹم کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں اس حساس نظام کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا گیا ہے

دورے کے موقع پر وزیراعظم کو ملک بھر میں موجود ایٹمی اثاثوں کو باہم مربوط کرنے اور ان اثاثوں پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنے کے نظام کا کمیپوٹر کے ذریعے مظاہرہ کرکے بھی دکھایا گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں اس حساس نظام کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا گیا ہے۔

اس سے پہلے گزشتہ ماہ بھی وزیراعظم نواز شریف کو سٹرٹیجک پلاننگ ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل خالد قدوائی نے ایک اجلاس میں ملک کی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں کی سلامتی اور تحفظ کے بارے میں کیے گئے اقدامات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں دنیا کے شکوک وشبہات بے بنیاد ہیں۔

اس بریفنگ سے چند دن پہلے ہی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے افشاء کیے گئے خفیہ دستاویزات اور امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی ’بلیک بجٹ‘ نامی دستاویزات کے اقتباسات شائع کیے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کے حوالے سے دو ممکنہ صورتحال سے فکر مند ہے۔

اولاً یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر دہشت گرد حملہ کریں جیسے انہوں نے سنہ 2009 میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ پر حملہ کیا تھا۔ دوسرا خدشہ جو کہ پہلے سے بھی بڑا خدشہ ہے وہ یہ ہے کہ دہشت گرد پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس میں اثر و رسوخ بڑھا لیں اور اس پوزیشن میں آ جائیں کہ یا تو وہ ایٹمی حملہ کر دیں یا پھر ایٹمی ہتھیار سمگل کر سکیں۔

دوسری جانب ملک کی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عہدے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی میعاد آٹھ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور اس بارے میں گزشتہ کئی روز سے مقامی میڈیا میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس عہدے پر کس کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ جنرل کیانی جو آئندہ ماہ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ان کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بحریہ کے سربراہ محمد آصف سندھیلہ اور بری فوج کے اس وقت جنرل کیانی کے بعد سب سے سینیئر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کی بطور چیئرمین جے سی ایس سی تعیناتی کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔

اسی بارے میں