اہم سیاسی جماعت کے رکن کی بطور قاتل شناخت

Image caption کراچی آپریشن میں گرفتاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے

کراچی کی مقامی عدالت میں ایک چشم دید گواہ نے مسلم لیگ لائرز فورم کے رحمت علی رندھاوا کے قتل کیس میں گرفتار ملزم کی شناخت کرلی ہے۔

کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے اس ملزم کا تعلق شہر کی ایک بڑی اہم اور بااثر سیاسی جماعت کے ساتھ ظاہر کیا تھا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ وسطی علی اکبر کی عدالت میں سنیچر کو ملزم اور گواہ کو چہرے ڈھانپ کر پیش کیا گیا، جہاں ایک گواہ نے ملزم کی شناخت کرلی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے گواہ کی شناخت راز میں رکھی گئی ہے۔

یاد رہے کہ رحمت رندھاوا صحافی ولی بابر کے قتل کیس کی پیروی کر رہے تھے، اس سے پہلے ولی بابر کیس کے سات گواہوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔ اس واقعے کے بعد کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کو گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کے احکامات جاری کیے تھے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق رواں ماہ سندھ اسمبلی نے گواہوں کے تحفظ کا قانون بھی منظور کیا تھا، جس کے تحت گواہ عدالتی کارروائی میں ماسک پہن کر اپنی شاخت چھپا سکتا ہے، اس کے علاوہ گواہ کو محفوظ مقام پر رہائش کے علاوہ معاشی معاونت بھی فراہم کی جائےگی۔ قانون کے مطابق اگر گواہ کو اس کارروائی کے دوران نشانہ بنایا جاتا ہے تو حکومت لواحقین کی مالی مدد کرنے کی بھی پابند ہے۔

قانون کے تحت ’وٹنس پروٹیکشن بورڈ‘ بنایا جائے گا، جس کے سربراہ سیکریٹری داخلہ ہوں گے جبکہ آئی جی پولیس، آئی جی جیلز اور انسانی حقوق کی وزارت کے سیکریٹری رکن ہوں گے، اس کے علاوہ وٹنس پروٹیکشن یونٹ کا بھی قیام عمل میں لایا جائے گا۔

ادھر کراچی میں امن کے قیام کے لیے رینجرز کی ٹارگٹڈ کارروایاں جاری ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق گزشتہ شب عزیز آباد میں چھاپہ مار کر دو ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر کے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ترجمان کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسلحے میں پانچ ایس ایم جیز، چار رائفلیں، شاٹ گن، بارہ پستول، دستی بم اور بلٹ پروف جیکٹس شامل ہیں۔

رینجرز کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے سیاسی رقابت کی بنیاد پر قتل کی کئی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔

اسی بارے میں