’حکومت زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کی اجازت دے‘

Image caption بلوچستان میں 24 ستمبر کو زلزلہ آیا تھا جس میں حکام کے مطابق چار سو سے زیادہ افراد ہلاک اور تین لاکھ سے زیادہ زائد متاثر ہوئے

لوگوں کی طبی امداد کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ بارہا درخواست کرنے کے باوجود حکومتِ پاکستان اس کے ڈاکٹروں اور عملے کو بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

بلوچستان میں 24 ستمبر کو زلزلہ آیا تھا جس میں حکام کے مطابق چار سو سے زیادہ افراد ہلاک اور تین لاکھ سے زیادہ زائد متاثر ہوئے۔ سب سے زیادہ تباہی آواران ضلع میں ہوئی ہے مگر اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی امدادی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔

بلوچستان زلزلہ: ہلاکتیں 400، تین لاکھ متاثر

متاثرہ علاقے میں ایک اور زلزلہ، مشکے میں تباہی

ایم ایس ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ 24 ستمبر سے پاکستان کے حکام سے روزانہ رابطہ کر رہی ہے تاکہ اپنی ٹیمیں اور طبی امداد آواران میں پہنچا سکے مگر حکومت پاکستان نے اُسے اب تک متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

بیان میں مذید کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایف بلوچستان میں پہلے ہی کام کر رہی ہے اور اس کی ٹیمیں زلزلہ زدہ علاقوں میں طبی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پوری طرح تیار ہیں جنھوں نے متاثرہ افراد کے علاج معالجے، پینے کے پانی اور صفائی کے لیے ضروری اشیاء کا بندوبست کر رکھا ہے۔

ایم ایس ایف کے منیجر آپریشنز کرس لاکیئر نے اس بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے انتظار کے لیے گیارہ دن بہت زیادہ ہوتے ہیں اور یہ بہت اہم ہے کہ پاکستانی حکام آواران میں غیرجانبدارانہ امداد کی اجازت دیں تاکہ متاثرین کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے۔

تنظیم کہتی ہے کہ متاثرہ علاقوں سے ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہاں اب بھی لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے اور حکومت کی امدادی ٹیمیں وہاں نہیں پہنچ سکی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں صحت عامہ کی صورت حال پہلے ہی خراب ہے، وہاں کئی علاقوں میں لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، خاص طور پر بچے ملیریا اور دوسرے امراض کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ایم ایس ایف کے منیجر آپریشنز کرس لاکیئر کا کہنا ہے کہ ہم متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے لیے پریشان ہیں کیونکہ زلزلے کے بعد صورت حال بدتر ہوگئی ہوگی۔

بیان کے مطابق ایم ایس ایف کی ٹیمیں پاکستان کے قبائلی علاقوں، صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور صوبہ سندھ میں ان لوگوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہے جو شورش یا لڑائی سے متاثر ہوئے ہیں یا جنھیں صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں اور یہ کہ وہ پاکستان میں اپنی امدادی سرگرمیوں کے لیے دنیا بھر میں لوگوں کے نجی عطیات سے فنڈز جمع کرتی ہے اور کسی ملک کی حکومت، امدادی ادارے، فوج یا سیاسی گروپس سے پیسے نہیں لیتی۔

اسی بارے میں