’شکر خدا کا، میں زندہ بچ گئی‘

Image caption خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملالہ اس سال نوبیل انعام پانے والی کم سن ترین شخصیت بن جائیں گی

طالبان کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی کی کتاب کے مطابق انھوں نے چھ دن کی بےہوشی کے بعد آنکھ کھولی تو ان کے ذہن میں پہلا خیال یہ آیا: ’شکر خدا کا کہ میں زندہ ہوں۔‘

یہ بات ملالہ نے اپنی سوانحِ حیات ’میں ملالہ ہوں‘ میں بتائی ہے۔ اس کتاب کے کچھ اقتباسات برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہوئے ہیں۔اشاعتی ادارے اورین کے مطابق یہ کتاب آٹھ اکتوبر کو دستیاب ہو گی۔

16 سالہ ملالہ کو گذشتہ برس طالبان نے سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ 11 اکتوبر کو امن کے نوبیل انعام کا اعلان ہو گا۔ ملالہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس انعام کے لیے صفِ اول کے امیدواروں میں شامل ہیں۔

ملالہ ایمنسٹی کی ’ضمیر کی سفیر‘

تعلیم نہیں، طالبان کی مخالف کی وجہ سے نشانہ بنایا

شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں: ملالہ

ملالہ نے کہا ہے کہ گولی لگنے کے بعد جب انھیں برطانیہ کے ایک ہسپتال میں ہوش آیا تو وہ بول نہیں سکتی تھیں، اور نہ ہی انھیں اس بات کا علم تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ انھیں اپنے نام تک کا پتا نہیں تھا۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملالہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انھیں حملے کے بارے میں کچھ زیادہ یاد نہیں ہے۔ انھیں بس اتنا یاد ہے کہ نو اکتوبر 2012 کو وہ اپنی سہیلییوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھیں۔ ان کی سہیلیوں نے انھیں بتایا کہ ایک نقاب پوش پستول بردار شخص نے گاڑی میں داخل ہو کر پوچھا، ’ملالہ کون ہے؟‘ اور پھر ان کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی۔

ملالہ نے لکھا ہے: ’مجھے 16 اکتوبر کو حملے کے ایک ہفتے بعد ہوش آیا۔ میرے ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ یہ تھا: ’’شکر خدا کا کہ میں زندہ ہوں،‘‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں پر ہوں۔ مجھے بس یہ پتا تھا کہ میں اپنے ملک میں نہیں ہوں۔‘

ملالہ نے کہا کہ انھوں نے بولنے کی کوشش کی لیکن ان کی گردن میں ٹیوب لگی ہوئی تھی جب کہ ان کی بائیں آنکھ کی نظر ’بہت دھندلی تھی اور مجھے ہر کسی کی چار چار آنکھیں اور دو دو ناک نظر آ رہے تھے۔‘

ملالہ نے مزید لکھا ہے: ’میرے ذہن میں ہر قسم کے سوالات چکرا رہے تھے، میں کون ہوں؟ مجھے یہاں کون لایا ہے؟ میرے والدین کہاں ہیں؟ کیا میرے والد زندہ ہیں؟ میں بہت خوفزدہ تھی۔ مجھے صرف ایک بات کا احساس تھا کہ اللہ نے مجھے نئی زندگی عطا کی ہے۔‘

ایک ڈاکٹر نے انھیں حروفِ تہجی کا بورڈ دیا جس کی مدد سے ملالہ نے country اورfather کے ہجے کیے۔

’نرس نے مجھے کہا کہ میں برمنگھم میں ہوں، لیکن مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یہ کہاں پر ہے۔ نرسیں مجھے کچھ نہیں بتا رہی تھیں، حتیٰ کہ میرا نام بھی نہیں۔ کیا میں اب بھی ملالہ تھی؟‘

ملالہ نے لکھا ہے کہ ان کے سر میں اس قدر شدید درد تھا کہ دردکُش ٹیکے اسے روکنے سے قاصر تھے، ان کے دائیں کان سے مسلسل خون بہہ رہا تھا اور انھیں محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے چہرے کا دایاں حصہ مناسب طریقے سے حرکت نہیں کر رہا۔

ہسپتال میں ملالہ ٹیلی ویژن دیکھتی تھیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ انھیں کھانا پکانے کا پروگرام ’ماسٹر شیف‘ پسند تھا، لیکن فلم ’بینڈ اٹ لائک بیکم‘ پسند نہیں آئی۔ اس فلم میں جب انھوں نے دیکھا کہ لڑکیوں نے ’قمیصیں اتار کر زیر جاموں میں کھیل کی مشق شروع کر دی ہے تو انھوں نے نرسوں سے کہا کہ وہ ٹی وی بند کر دیں۔

وہ ہسپتال میں حلال فرائیڈ چکن اور آلو کے قتلے بہت شوق سے کھاتی تھیں۔

بالآخر ان کے والدین حملے کے 16 دن بعد برطانیہ پہنچے اور ملالہ کہتی ہیں کہ وہ اس دن حملے کے بعد پہلی بار روئیں:

’اس تمام وقت میں جب میں ہسپتال میں تنہا تھی، میں نہیں روئی۔ اس وقت بھی نہیں جب مجھے گردن میں ٹیکے لگتے تھے یا جب میرے سر سے سٹیپل ہٹائے گئے۔ لیکن اب میں اپنے آپ کو روک نہیں پائی۔ میرے والد اور والدہ بھی رو رہے تھے۔‘

ملالہ نے مزید لکھا ہے: ’مجھے ایسا لگا جیسے میرے دل پر سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا ہے۔ مجھے لگا کہ جیسے اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘

اسی بارے میں