’پاکستان واپس جا کر سیاستدان بنوں گی‘

Image caption میں نہیں چاہتی تھی کہ میرا مستقبل بھی ایک کمرے میں بیٹھے رہنا ہو: ملالہ یوسفزئی ،

برطانیہ میں زیرِ تعلیم ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک پاکستان میں حصول تعلیم کو لازمی بنانا چاہتی ہیں اور مستقبل میں سیاستدان بننا چاہیں گی۔

وادیِ سوات میں تقریباً ایک برس قبل طالبان کے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں کہا ہے کہ وہ پاکستان واپس جا کر سیاست کے میدان میں قدم رکھنا چاہیں گی اور کوشش کریں گی کہ ملک میں تعلیم مفت ہو اور اسے لازمی قرار دیا جائے۔

شدت پسند تعلیم کی طاقت سے خوفزدہ ہیں: ملالہ

اللہ پر چھوڑ دیں

اللہ پر چھوڑ دیں: دوسرا حصہ

ان کا کہنا تھا کہ ’میں مستقبل میں سیاستدان بنوں گی۔ میں اپنے ملک کا مستقبل بدلنا اور حصولِ تعلیم کو لازمی بنانا چاہتی ہوں۔‘

ملالہ کے مطابق ’مجھے امید ہے کہ ایک دن آئے گا جب پاکستانی عوام کو ان کے حقوق ملیں گے، ملک میں امن ہوگا اور ہر لڑکا اور لڑکی سکول جا رہا ہوگا۔‘

اپنے آبائی علاقے سوات میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائیوں کے لیے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا آسان ہے۔ وہ جو چاہیں بن سکتے ہیں لیکن میرے لیے یہ بہت مشکل تھا اور اسی وجہ سے میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔‘

بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھنے کے بارے میں ملالہ نے بتایا کہ ’میں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا چاہتی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرا مستقبل بھی ایک کمرے میں بیٹھے رہنا، چاردیواری میں قید رہنا، کھانا پکانا اور بچوں کو جنم دینا ہو۔ میں نے اپنی زندگی کے بارے میں یہ نہیں سوچا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ڈائری لکھتے ہوئے وہ اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے والد کے لیے فکرمند تھیں۔ ’میں اپنے والد کے بارے میں فکرمند تھی۔ میں سوچا کرتی تھی کہ اگر کوئی طالب میرے گھر آ گیا تو کیا ہوگا؟ اگر ایسا ہوا تو میں والد کو الماری میں چھپا کر پولیس کو فون کر دوں گی۔‘

2012 میں جب ملالہ پر حملہ ہوا تو سوات میں فوجی آپریشن کے بعد طالبان کا اثر بہت حد تک کم ہو چکا تھا۔ اس حملے کو یاد کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ انہیں حملہ آوروں کو دیکھنا تو یاد نہیں مگر حملے سے قبل ’یہ چیز غیرمعمولی لگی کہ سڑک بالکل سنسان تھی۔ میں نے منیبہ سے پوچھا، یہاں کوئی کیوں نہیں ہے؟ تم نے دیکھا۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔‘

تاہم ملالہ کو یہ اچھی طرح یاد ہے کہ جب چھ دن کی بے ہوشی کے بعد ان کی آنکھ پہلی مرتبہ کھلی تو انہیں کیا محسوس ہوا: ’میں نے اپنی آنکھیں کھولیں تو پہلی چیز جو مجھے دکھائی دی وہ یہ تھی کہ میں ہسپتال میں ہوں اور مجھے ڈاکٹر اور نرسیں نظر آئیں۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے نئی زندگی دی۔‘

اس سوال پر ان کے خیال میں شدت پسندوں کو ان پر حملے سے کیا مقصد حاصل ہوا، ملالہ نے کہا ’میرے خیال میں وہ ملالہ پر حملہ کر کے پچھتا رہے ہوں گے۔ اب اس کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے۔‘

اپنی سولہویں سالگرہ پر جنرل اسمبلی میں تقریر کا موقع ملنے کے بارے میں ملالہ کا کہنا تھا کہ ’جب میں سے سو سے زیادہ ممالک کے چار سو افراد کو دیکھا تو میں نے خود سے کہا کہ میں دنیا کے ہر انسان سے مخاطب ہوں۔‘

طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ ’مسائل حل کرنے کے لیے اور اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بہترین راستہ مذاکرات ہیں۔۔۔ مگر یہ کام میرا نہیں ہے، یہ حکومت کا کام ہے اور یہ امریکہ کا کام ہے۔‘

ملالہ خود پر ہونے والی تنقید سے بھی متاثر نہیں ہوتیں: ’اپنے خیالات کا اظہار کرنا ان کا حق ہے اور یہ میرا حق ہے کہ میں جو چاہوں وہ کہوں۔ میں تعلیم کے شعبے کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ یہی میری واحد خواہش ہے۔‘

سوات کی ایک عام سے لڑکی سے تعلیم کے فروغ کے لیے عالمی شہرت یافتہ کارکن بننے والی طالبہ کا کہنا ہے کہ ’میں آج بھی وہی پرانی ملالہ ہوں۔میں آج بھی عام زندگی گزرانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن یہ ضرور ہے کہ میری زندگی بہت بدل گئی ہے۔‘

ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے لیے تعلیم عام کرنے کی کوششوں پر نو اکتوبر 2012 کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا ابتدائی علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں انہیں برطانیہ منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ مقیم ہیں۔

حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو کئی ماہ تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہنا پڑا اور ان کی کھوپڑی کے کئی آپریشن کیے گئے۔ اس حملے پر دنیا بھر میں طالبان کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں