زلزلہ: اقوام متحدہ کے امدادی کارکنان کو بلوچستان جانے سے روک دیا گیا

Image caption متاثرہ علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں جغرافیہ ہی بدل گیا ہے

پاکستان نے اقوام متحدہ کے اداروں کو بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے اور منگل کو بذریعہ سڑک آواران روانگی کے لیے کراچی پہنچنے والے اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے ارکان کو روک دیا گیا ہے۔

دوسری طرف وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی از سر نو آباد کاری کے لیے عالمی اداروں کو کام کرنے کی اجازت دیں۔

دریں اثنا صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے شعبۂ ایمرجنسی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فواد خان نے بی بی سی کو بتایا ڈبلیو ایچ او ، یونیسیف اور ورلڈ فوڈ پروگرام سمیت اقوام متحدہ کے تمام ہی اداروں کے نمائندے کوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے اور یہاں سے انہیں بذریعہ سڑک آواران جانا تھا لیکن نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے انہیں اجازت نہیں دی، اس لیے مشن کو مؤخر کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے یہ ادارے صحت، غذائیت، شیلٹر، خوراک اور واش کلسٹر کی صورت میں کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فواد خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مشن مقامی ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کرتے ہیں پھر متاثرہ علاقوں میں جاتے ہیں اور ضروریات کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنیاد پر امدادی کام شروع کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صحت کے عالمی ادارے کے جو مقامی لوگ پولیو مہم میں کام کرتے ہیں اب وہی ان کی آنکھیں اور کان ہیں، یہ لوگ متاثرہ علاقے میں آسانی سے سفر کر رہے ہیں اور انہیں اب تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ پاکستان کی حکومت نے اس سے پہلے فرانس کے ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کو بھی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دینے انکار کردیا تھا۔

پاکستان کے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ادریس محسود کا کہنا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی اداروں یا ممالک سے مدد کی اپیل نہیں کی ہے کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے اس کے پاس وسائل، اہلیت اور قابلیت موجود ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے بین الاقومی اداروں سے مدد کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ جس پیمانے کی تباہی ہوئی ہے وہ اکیلے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

این ڈی ایم کے ترجمان نے اس ایپل سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیر اعلیٰ نے قومی اداروں اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کی ہوگی، کیونکہ بین الاقوامی مدد کا فیصلہ وفاقی حکومت کرتی ہے۔

بلوچستان کے صوبائی ڈزاسٹر مینجنمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے آواران اور کیچ کی پونے دو لاکھ آْبادی متاثر ہوئی ہے، جبکہ قومی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کی تعداد سوا لاکھ ہے۔

پاکستان کی نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ادریس محسود کا کہنا ہے کہ حکومت نے متاثرین کو کافی حد تک امدادی سامان مہیا کیا ہے، جن میں 50 ہزار سے زائد خوراک کے تھیلے شامل ہیں، ایک تھیلے میں 50 سے 53 کلو گرام سامان موجود ہے جو چھ سے سات افراد پر مشتمل خاندان کے 15 روز کے لیے کافی ہوتا ہے۔

’خوراک کے یہ 50 ہزار تھیلے بلوچستان، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں، ایدھی فاؤنڈیشن، پاکستان ہلال احمر اور دیگر اداروں کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرین کو 40 ہزار خیمے بھی فراہم کیے گئے ہیں، ایک خاندان کے لیے دو خیموں کا بندوبست کیا گیا ہے۔ بقول ان کے متاثرہ علاقے پسماندہ ہیں لیکن وہ زیادہ سے زیادہ متاثرین تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں