نواز حکومت بھی جنگ ٹال رہی ہے

حکیم اللہ محسود

حکیم اللہ محسود کے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں اور کچھ سمجھ آیا یا نہیں یہ ضرور پتہ چل گیا کہ جن مذاکرات کا اتنا چرچا ہے اور جن کی زیر زبر پر ایک عرصے سے اتنی گرما گرم بحث جاری ہے وہ آخر ہو کیوں نہیں پا رہے۔

حکیم اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اے پی سی کے بعد مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے ہیں۔ نہ حکومت نے ان کے پاس کوئی جرگہ بھیجا ہے اور نہ ہی میڈیا کے سوا کسی اور سطح پر ان سے رابطہ کیا ہے۔

یہ کتنی عجیب بات ہے۔ نواز شریف کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ اور ایسا کرنے کے لیے اسے ہر فریق سے بات کرنے کا متفقہ سیاسی مینڈیٹ حاصل ہے۔ اس کے تمام وزیر اور مشیر بھی مذاکرات کی ضرورت کے قائل نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اب تک کسی ایسے عمل کا آغاز نہیں کر سکی جو مستقبل قریب میں امن کا ضامن بن سکے۔

اس کا جواب شاید حکیم اللہ کی ان باتوں میں ہے جو طالبان کی بنیادی سوچ کی نمائندگی کرتی ہیں۔

پاکستان کے خلاف جنگ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ تو پاکستان کا امریکا کا نائب ہونا ہے۔ اور دوسری وہ ’کفری نظام‘ یعنی جمہوریت جس کے وہ سخت مخالف ہیں۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں جو بھی ہو وہ پاکستان میں اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

یہاں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ طالبان نے افغانستان میں اپنے دور میں یہ دونوں کام کر دکھائے۔ اس سے قطع نظر کہ اس کی عوام یا معاشرے نے کیا قیمت ادا کی۔ نہ اپنی حکومت میں انہوں نے مغرب کے ساتھ کسی قسم کا سفارتی یا تجارتی تعلق رکھا اور نہ ہی انھیں اپنی شریعت کے نفاذ کے لیے عوامی حمایت، انتخابات یا جمہوریت کی لاٹھی کی کوئی ضرورت پڑی۔

ظاہر ہے وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ نہ تو وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے اور نہ ہی وہ پاکستانی معاشرے کو مزید طالبانیت کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نہ تو کچھ سننے کو تیار ہیں اور نہ ہی ان کے سیاسی فلسفے میں کہیں کوئی لچک ہے۔

ایسے میں مذاکرات شروع کرنا دراصل ایک ایسے عمل کا آغاز ہو گا جس کا انجام ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو وہ موہوم سی امید بھی دم توڑ دے گی کہ شاید اسی طرح ملک میں امن قائم ہو سکے۔

پھر اصل جنگ شروع ہو گی، ایک ایسی جنگ جو پاکستان میں ابھی تک نہیں دیکھی گئی۔ نواز شریف کی حکومت کی ابھی تک یہی سوچ ہے کہ اگر وہ اس جنگ کو روک نہیں سکتے تو کم از کم جتنا ٹال سکتے ہیں ٹال لیں۔

اور ان کی یہ سوچ اس حد تک ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ یہ جنگ جب بھی شروع ہوئی، اس کا سب سے بڑا میدان قبائلی علاقے یا خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پنجاب ہو گا۔