حکیم اللہ محسود کون تھے؟

  • 9 اکتوبر 2013

پاکستانی طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود پہلی مرتبہ 2007 میں پاکستان فوج کے خلاف حملوں کی وجہ سے ایک بےرحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔

اس وقت تک وہ طالبان کے کئی کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کو ہلاک کیا ہے۔

2009 میں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے۔

امریکہ نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قمیت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔ پاکستان نے بھی حکیم اللہ کے سر کی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔

کئی مرتبہ حکیم اللہ محسود کے مرنے کی خبر آئی لیکن ایسی تمام رپوٹیں غلط ثابت ہوئیں۔ حال ہی ان کے نائب ولی الرحمن بھی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی نیوز کے احمد ولی مجیب جب حکیم اللہ محسود قبائلی علاقوں میں ملے تو انہیں بہت صحت مند اور پرسکون پایا۔

حکیم اللہ محسود کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے

احمد ولی مجیب کا کہنا ہے کہ ان کی حکیم اللہ محسود سے ملاقات کے وقت ڈرون طیارے ان کے سروں پر پرواز کر رہے تھے۔ ایک دفعہ تو ایک ڈرون بہت نیچے آگیا جس سے وہ انتہائی خوفزدہ ہوگیا لیکن حکیم اللہ محسود پر سکون رہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کےامیر حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور ان کی عمر چھتیس سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

حکیم اللہ محسود کے علاوہ وہ ذوالفقار محسود کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ تاہم قبائلی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کا اصل نام جمشید ہے۔ حکیم اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کےگاؤں کوٹکی سے بتایا جاتا ہے۔ وہ محسود قبیلے کے ذیلی شاخ آشینگی سے ہیں۔

’حکومت نے مذاکرات میڈیا کےحوالے کر دیے ہیں‘

بتایا جاتا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے کوئی باقاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ البتہ انہوں نے صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے ایک گاؤں شاہو میں ایک مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی جہاں وہ بیت اللہ محسود کہ ہمراہ پڑھے تھے۔ تاہم دینی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی دونوں طالبان کمانڈروں نے مدرسہ چھوڑ دیا تھا۔

حکومت کے خلاف جب کوئی بڑا واقع ہوا ہے تو اس میں طالبان کی قیادت حکیم اللہ ہی کرتے رہے ہیں۔

سن دوہزار چار میں جب بیت اللہ محسود منظر عام آئے تو حکیم اللہ محسود ذوالفقار محسود کے نام سے ان کے ترجمان کی حثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ تحریک طالبان پاکستان میں جنگی کمانڈر کےطور پر زیادہ جانے جاتے تھے۔

تحریک کے امیر مقرر ہونے سے قبل وہ تین قبائلی ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی کے کمانڈر تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ خیبر ایجنسی میں نیٹو افواج کو سامان لے جانے والی گاڑیوں پر حملے کرتے رہے ہیں جب کہ کرم ایجنسی میں شعیہ سنی فسادات میں بھی ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے دو شادیاں کیں۔ دوسری شادی انہوں نے دو ہزار نو میں اورکزئی ایجنسی کے ماموں زئی قبیلے میں کی ہے۔ وہ ذرائع ابلاغ کو تصویروں اور فلموں کے ساتھ انٹرویو دینے کے شوقین بتائے جاتے ہیں جب کہ بیت اللہ میڈیا میں اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے پشاور اور قبائلی علاقوں کے صحافیوں کے ساتھ اچھے مراسم بھی ہیں۔

اسی بارے میں