’حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے ہیں اور ہم میڈیا سے مذاکرات نہیں کریں گے‘

Image caption امریکی افواج کےانخلا کےبعد بھی پاکستان میں ’کافرانہ نظام‘ کے خلاف ’جہاد‘ جاری رہے گا

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور آل پارٹیز کانفرنس کےبعد حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے ہیں۔

بی بی سی کےساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں حکیم اللہ محسود نے کہا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا رسمی اعلان ہوتا اور مذاکرات کے لیے رسمی جرگہ بھجوا دیتے۔‘

حکیم اللہ محسود کا آڈیو انٹرویو

اب جنگ ہوئی تو پنجاب میدان ہو گا

حکیم اللہ محسود کون؟

’ستر مشیران کس نے قتل کروائے تھے؟‘

انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کریں گے۔’ہم میڈیا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے ہیں نہ ہی حکومتی شرائط میڈیا سے سننا چاہتے ہیں اور نہ اپنی شرائط میڈیا کو دینا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ طالبان سنجیدہ مذاکرات کے قائل ہیں اور اگر مذاکرات کی سنجیدہ کوشش ہوئی تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حکومتی جرگہ طالبان سے مذاکرات کےلیے آئےگا تو وہ اسے مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء

حکیم اللہ محسود نے کہا ہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد تحریک طالبان پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

’ہم پاکستان کے خلاف دو باتوں کی وجہ سے جہاد کرتے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے پاکستان کی امریکہ سے دوستی ہے اور امریکہ کے کہنے پر پاکستان میں علما کو قتل کیاگیا اور دینی مدارس کو تباہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کی دوسری وجہ پاکستان کا ’کافرانہ نظام‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی انخلا ہوتا ہے تو اس کے بعد بھی طالبان شریعت کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

امریکی ڈرون حملے

حکیم اللہ نے کہا کہ اگر امریکہ کی طرف سے کیے جانے والے ڈرون حملے بند ہوتے ہیں تو طالبان جنگ بندی کے لیے تیار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بعض علما کی جانب سے جنگ بندی کرنے کی اپیل کا علم ہے: ’لیکن جنگ بندی کی صورت میں ڈورن حملے بند ہونے چاہییں۔اگر ڈرون حملے بند ہو جاتے ہیں تو ہم جنگ بندی کے لیے تیار ہیں۔‘

عوامی مقامات پر دھماکے

حکیم اللہ محسود نے پاکستان میں پبلک مقامات پر دھماکوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ان دھماکوں میں خفیہ ادارے ملوث ہیں۔

’ان دھماکوں کا مقصد لوگوں کو طالبان سے بدظن کرنا ہے تاکہ جو لوگ طالبان کی مدد کرتے ہیں ان کا تعاون ختم ہو جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ پبلک مقامات میں جو دھماکے ہوئے ہیں وہ پہلے بھی لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ طاغوت کو ماننے والے ہیں اور امریکہ کے دوست ہیں انہیں نشانہ بنایا گیا ہے اور آئندہ بھی بنایا جائے گا۔

ماضی کے معاہدے

ماضی میں طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی ناکامی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے اس کا الزام پاکستان کی سابق حکومتوں پر عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان ’خود مختار‘ ہیں جبکہ پاکستانی حکومت امریکی دباؤ میں ہے۔

انہوں نے کہا طالبان کے ساتھ معاہدوں کے بعد ڈرون حملے کیےگئے جس کی ذمہ داری حکومت پاکستان نے قبول کی۔’یہ معاہدے حکومت کی وجہ سے ناکام ہوئے ہمارے پاس اس کے ثبوت ہیں۔ ہم یہ ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں