بگٹی قتل کیس: پرویز مشرف کی ضمانت منظور

Image caption پرویز مشرف کے خلاف سنہ دوہزار سات میں لال مسجد آپریشن کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواب اکبر بگٹی کے مقدمۂ قتل میں پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

پرویز مشرف کے وکلا نے اس مقدمے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ان کی درخواست منظور کی۔

جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے بلوچستان کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے پاس کوئی ایسے شواہد ہیں کہ ملزم پرویز مشرف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بُگٹی کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل اس سوال کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

پرویز مشرف کے وکیل ابراہیم ستی نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے اُن کے موکل کی ضمانت کی درخواست میرٹ پر مسترد نہیں کی تھی بلکہ اسے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیا گیا تھا۔

عدالت نے درخواست گُزار کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے پرویز مشرف کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی اور اُنہیں دس دس لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔

نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمے میں سابق گورنر اویس غنی کے علاوہ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ بھی ملزمان میں شامل ہیں۔

پرویز مشرف کے خلاف اُن کی عدم موجودگی میں درج ہونے والے تین مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جس میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو، اعلی عدلیہ کے ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ پرویز مشرف کے خلاف 2007 میں لال مسجد آپریشن کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر درج کیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے ابھی تک اپنا کام شروع نہیں کیا۔

سابق فوجی صدر کے خلاف موجودہ حکومت نے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کو معطل کرنے پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروایا تھا۔

جنرل مشرف ان دنوں چک شہزاد میں واقع اپنے فارم ہاؤس میں قید ہیں جنہیں اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب جیل قرار دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں