لاہور: انارکلی کی فوڈ سٹریٹ میں دھماکہ

انارکلی فوڈ سٹریٹ
Image caption جولائی میں اسی فوڈ سٹریٹ میں ہونے والے دھماکے مںی چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور کم سے کم سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ جمعرات کی دوپہر انار کلی بازار کی فوڈ سٹریٹ میں ہوا۔

دھماکے سے ایک دکان مکمل تباہ جب کہ دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

پنجاب پولیس کے آئی جی خان بیگ نے موقعے کا دورہ کیا اور میڈیا کو بتایا کہ دھماکے میں بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جب کہ نوعیت کا اندازہ لگانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ ایک چھوٹی نوعیت کا دھماکہ ہے۔ ابھی بم ڈسپوزل والے بم کے بارود کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن اس کا پیٹرن وہی ہے جو چند ماہ پہلے اسی جگہ ہونے والے دھماکے کا تھا۔ دھماکے میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔‘

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور زخمیوں کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ تین ماہ قبل چھ جولائی کو اسی جگہ پرانی انارکلی میں ہونے والے بم دھماکے میں ایک چھ سالہ بچی سمیت چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

یہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا تھا اور پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک دکان کے باہر رکھے فرج کے نیچے چھپایا گیا تھا۔

ڈی سی او لاہور نسیم صادق نے دھماکے کے بعد کہا ’ہم کئی پہلوں سے اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں، کہ آیا یہ سلنڈر دھماکہ ہے یا پھر کوئی اور ڈیوائس۔ تاہم ابھی تک ہمیں اس طرح کے شواہد نہیں ملے کہ یہ گیس کا دھماکہ ہے۔ اس لیے اس حوالے سے حتمی طور پر اس وقت ہی کچھ بات ہوسکتی ہے جب ادارے اپنی تحقیق مکمل کرلیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اس وقت ملک میں دہشت گردی کا ماحول ہے، سیکورٹی تو ہر جگہ بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن عوام کو بھی حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کردار ادا کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں