کنڑ: پاکستان اور افغان طالبان میں جھڑپ

Image caption یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان ذرائع نے کسی ایسے جھڑپ کی تصدیق کی ہے

پاکستان کی سرحد سے متّصل افغان صوبہ کنّڑ میں پاکستانی اور افغان طالبان کے مابین ہونے والی ایک جھڑپ میں تین کمانڈروں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے افغانستان کے صوبے کنّڑ میں غازی آباد کے مقام پر درجنوں افغان طالبان نے پاکستانی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں تین پاکستانی شدت پسند کمانڈر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والے کمانڈروں کا تعلق سوات طالبان سے بتایا جاتا ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی میں سوات طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ بھی ہلاک ہوگئے ہیں تاہم طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔

طالبان ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مسلح تنظیموں کے مابین لڑائی ضرور ہوئی ہے لیکن اس میں سوات طالبان کا کوئی کمانڈر یا جنگجو ہلاک نہیں ہوا ہے۔ ذرائع نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ اس جھڑپ میں مولانا فضل اللہ ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں ۔

اس سے پہلے پشاور سے شائع ہونے والے بعض اخبارات میں بھی مولانا فضل اللہ کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ افغانستان میں سوات طالبان سربراہ کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ چند دن پہلے سوات کے طالبان کی طرف سے ایک وڈیو جاری کی گئی تھی جس میں اپر دیر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے فوج کے میجر جنرل ثناء اللہ کی گاڑی پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ اس وڈیو میں مولانا فضل اللہ فوج کے اعلی اہلکار پر حملے کی خوشی مناتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

یہ حملہ ایسا وقت ہوا تھا جب اسلام آباد میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کے ذریعے سے تمام معاملات حل کرنے کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی تھی۔ تاہم اس حملے سے مذاکراتی عمل کو شدید دھچکا لگا اور اس طرح کا تاثر بھی سامنے آیا کہ بعض عسکری تنظیمیں نہیں چاہتی کہ حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا عمل کامیاب ہوجائے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وادی سوات میں دو ہزار نو میں ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں طالبان کی کمر توڑ دی گئی تھی جس کے بعد مولانا فضل اللہ نے اپنے ساتھیوں سمیت علاقہ چھوڑ کر افغان صوبہ کنّڑ کے پہاڑوں میں پناہ لے لی تھی۔

خیال رہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان کے درمیان شروع سے مضبوط روابط قائم رہے ہیں اور ماضی میں ان کے درمیان اختلافات یا جھڑپوں کی اطلاعات کم ہی آئی ہے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان ذرائع نے کسی ایسے جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں