’کیا ہوا اگر ملالہ کو اس بار نوبیل امن انعام نہیں ملا‘

Image caption سکول کی ٹیچر بشریٰ رحمان کہتی ہیں کہ ملالہ کے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے اس سے قطع نظر پاکستان میں تمام بچوں کے لیے ایک ہیروئین کا کردار رکھتی ہے

کراچی کے ایک گرلز سکول کی دو منزلہ عمارت میں موجود ہر کوئی صبح سے تجسس میں مبتلا تھا۔ طالبات، اساتذہ اور صحافی سب ایک خبر کے منتظر تھے۔ ان کے کان یہ سننے کے لیے بیتاب تھے کہ امن کا نوبیل انعام 2013 ملالہ یوسف زئی کو مل گیا ہے۔

کیمرا مین مسکراتے معصوم چہروں والی کئی ملالاؤں پر اپنے کیمرے زوم اِن اور زوم آؤٹ کر رہے تھے اور صحافی موبائل فون پر اپنے نیوز رومز سے رابطے میں تھے۔ بالآخر دوپہر دو بجے پاکستان کے نیوز چینل پر سرخ پس منظر سے یہ خبر آئی کہ ملالہ کو یہ ایوارڈ نہ مل سکا۔ صحافیوں کے لیے یہ خبر نہ تھی لیکن ان طالبات کے لیے یہ لمحات ہرگز مایوس کن نہ تھے۔

نوبیل انعام تنظیم کا، کروڑوں دل ملالہ کے

نوبیل انعام کی تاریخ

سول ہپستال کے قریب واقع اس سیکنڈری سکول کا نام گذشتہ سال ملالہ یوسف زئی سے منسوب کیا گیا تھا۔ یہاں وہ خود آئی تھیں اور یہاں اس سلسلے میں ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھی۔

دو شفٹوں میں چلنے والے اس سکول کی ہیڈ مسٹریس کے دفتر کے ایک کونے میں ملالہ کی اس وقت کے صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے ساتھ تصویر، بی بی سی میں گل مکئی کے نام سے لکھی گئی ڈائری اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے انہیں ملنے والے اعزازات کی تفصیلات چھوٹے چھوٹے کارڈز پر تحریر تھیں۔

چھٹی جماعت کی طالبہ رابعہ علی کا کہنا تھا کہ ’کیا ہوا اگر ملالہ کو اس بار یہ ایوارڈ نہ ملا، اگلی بار تو اس سے بھی بڑا ایوارڈ ملے گا۔ ابھی تو ان کی پوری زندگی باقی ہے۔‘

اس سکول کی طالبات کے لیے ملالہ ایسی شہزادی نہیں جو مشکل سے نکلنے کے لیے بہادر شہزادے کی منتظر ہوتی ہے، لیکن وہ ماڈرن اینیمٹڈ سیریز کی ایسی کردار ہے جو تمام شیطانی قوتوں کے ساتھ خود لڑتی ہے۔

ساتویں جماعت کا طالبہ عائشہ کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک ملالہ نہیں کئی اور ملالائیں ہوں گی کیونکہ ملالہ نے یہ جذبہ پیدا کیا ہے کہ سب طالبات چاہتی ہیں کہ وہ ملالہ بنیں اور اسی مقام پر پہنچیں۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر ملالہ کی حمایت اور مخالفت میں تند و تیز بحث جاری رہی۔ تیرہ سالہ عائشہ سے میں نے کہا کہ ملالہ نے ان کے خیال میں ایسا کیا کیا تھا۔

’اس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا تاکہ وہ ہمارے لیے آواز نہ اٹھا سکے۔ وہ پوری دنیا میں اپنا نام روشن نہ کرسکے۔ وہ ڈرتی نہیں۔ اس نے ہمارے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی۔‘

Image caption کراچی میں سول ہپستال کے قریب واقع اس سیکنڈری سکول کا نام گزشتہ سال ملالہ یوسف زئی سے منسوب کیا گیا تھا

اس سکول کی ٹیچر بشریٰ رحمان کہتی ہیں کہ ملالہ کے بارے میں دنیا کیا سوچتی ہے اس سے قطع نظر پاکستان میں تمام بچوں کے لیے ہیروئن کا کردار رکھتی ہے۔

’اس کا خواب اور مقصد صرف اور صرف تعلیم کا فروغ ہے۔ آج اگر یہ ایوارڈ اس کو مل جاتا تو نہ صرف پاکستان کے لیے اعزاز کی بات تھی بلکہ اس کے ساتھ ایسے تمام لوگوں کے کے لیے بھی فخر کی بات تھی جن پر یہ جذبات عیاں تھے کہ ایک چھوٹی سی بچی نے گیارہ بارہ سال کی عمر میں سفر شروع کیا اور آج سولہ سال میں وہ اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ اس کا شمار ہو رہا ہے۔‘

نوبیل انعام کا معاملہ تو سال بھر کے لیے ٹل گیا لیکن پاکستان میں یہ بحث ابھی جاری رہے گی کیونکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ملالہ کو پیش آنے والے واقعات کو محض سازش سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں