کراچی: عیدِ قرباں کے موقع پر ضابطۂ اخلاق جاری

Image caption صوبے بھر میں گھر گھر جا کر کھالیں جمع کرنے کی بھی اجازت نہ ہوگی

پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت نے عیدِ قربان کے موقع پر اس بار بھی ایک ضابطۂ اخلاق جاری کیا ہے، جس کے تحت قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر سے اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے۔

کراچی میں ماضی میں عید قربان پر جانوروں کی کھالیں جمع کرنے پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں میں تصادم ہوتے رہے ہیں۔

عید کی آمد سے قبل ہی ان جماعتوں کی جانب سے شہر کے چوراہوں اور دیواروں پر بینر اور پوسٹر لگ جاتے ہیں جن میں ان کھالوں کا حقدار انہیں قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح بعض ادارے اخباری تشہیر بھی کرتے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق کھالیں جمع کرنے کی اجازت صرف ان مذہبی، فلاحی اور سیاسی جماعتوں کو ہوگی، جن کے پاس اجازت نامہ موجود ہوگا اور انہوں نے ضابطۂ اخلاق پر دستخط کیے ہوں گے۔

حکومت نے کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ لگانے، گاڑیوں پر جھنڈے اور لاؤڈ اسپیکر لگا کر اعلانات کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ گھر گھر جا کر کھالیں جمع کرنے کی بھی اجازت نہ ہوگی، صرف لوگ اپنے طور پر جا کر اپنی مرضی سے کھالیں عطیہ کر سکیں گے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق کشیدگی اور ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے عید کے تین روز کسی قسم کا اسلحہ، ڈنڈا یا سریا لے کر چلنے پر پابندی ہوگی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جگہ جگہ گاڑیوں کو روک کر تلاشی لیں گے۔

کراچی میں امن کی بحالی کے لیے گزشتہ ایک ماہ سے رینجرز اور پولیس نے ٹارگٹڈ ایکشن شروع کر رکھا ہے جس کے دوران اب تک چار سو سے زیادہ بھتہ خور، ٹارگٹ کلرز اور اغوا کار گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جن میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

کراچی کے سابق ناظم اور الخدمت فاؤنڈیشن کے سربراہ نعمت اللہ خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضابطۂ اخلاق کبھی بھی کارگر ثابت نہیں ہوا کیونکہ انہیں یاد نہیں پڑتا کہ کبھی اس پر سختی سے عملدر آمد کرایا گیا ہو۔ بقول ان کے کراچی میں سب سے زیادہ کھالیں انہیں ملتی ہیں اور چھنتی بھی ان کے ہی رضاکاروں سے جاتی ہیں۔

سابق ناظم کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ جانوروں کی قربانی کراچی میں ہوتی ہے اور یہاں بڑے پیمانے پر کھالیں بھی جمع ہوتی ہیں۔ ’ظاہر ہے لوگوں کو یہ کھالیں کسی نہ کسی کو تو دینی ہوتی ہیں لیکن اس میں ان کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔‘

سنّی تحریک بھی کھالیں جمع کرنے کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ تنظیم کے رہنما شکیل قادری کا کہنا ہے کہ ٹارگٹڈ کارروائیوں کےبعد علاقوں میں جانوروں کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے کیونکہ کئی لوگ قربانی کے کھالوں پر تکرار کی وجہ سے ڈرتے تھے اس لیے انہوں نے قربانی ہی چھوڑ دی تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں شہر کی بڑی سیاسی جماعت اپنے علاقوں میں کسی اور کو داخل ہونے نہیں دیتی تھی اور ساری لڑائی اس کی وجہ سے ہوتی رہی ہے، کیونکہ ’کھالوں سے ایک بڑی رقم ملتی ہے وہ نہیں چاہتے کہ یہ رقم کسی دوسرے کے پاس جائے۔‘

شکیل قادری کے مطابق ’جس طریقے سے کارروائیاں ہو رہی ہیں، خوف و ہراس کی لہر کم ہوئی ہے اس سے یہ امید تو ہے کہ لوگ اپنی رضا سے اداروں کو کھالیں دیں گے۔‘

واضح رہے کہ کراچی میں چمڑے کی بھی ایک بڑی صنعت موجود ہے، جہاں نہ صرف ملبوسات بنائے جاتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر چمڑا ایکسپورٹ بھی کیا جاتا ہے۔

شہر میں متحدہ قومی موومنٹ کی فلاحی تنظیم خدمت خلق فاونڈیشن کی جانب سےبھی بل بورڈ اور بینر لگائے گئے ہیں، جن میں عوام سے کھالیں انہیں عطیہ کرنے کی اپیل تحریر ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق پر ایم کیو ایم کا موقف جاننے کے لیے دو بار رابطہ کیا گیا تاہم ان کا کوئی موقف سامنے نہیں آسکا۔