پاکستانی اپنی عزت کب کریں گے؟

علامہ! کچھ دیر کے لیے یہ مان لینے میں کیا حرج ہے کہ دنیا کو پاکستان میں کچھ اچھا نظر نہیں آتا اور سب کے سب اس تاڑ میں ہیں کہ کب یہاں سے کوئی بری خبر آئے اور کب ایک نیا ڈھنڈورا پیٹنے کا بہانہ ملے۔ پاکستان اب سے نہیں بلکہ پیدائش سے آج تک دلِ باطل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ حالانکہ پاکستانیوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کی انہیں اس طرح سے سزا ملے۔

اب اس میں پاکستان کا کیا قصور کہ اسے افغانستان، ایران اور انڈیا جیسے ہمسائے ملے جو مستقل پاکستان کے بارے میں بات بے بات مشکوک رہتے ہیں۔ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے تو چین سے پاکستان کے تعلقات آخر کیوں مسلسل اچھے ہیں؟ حالانکہ نہ زبان مشترک، نہ تاریخ، نہ جغرافیہ، نہ نسل، نہ تہذیب ۔ کچھ بھی تو سانجھا نہیں۔ پھر آخر کیوں دونوں ہمسائیوں کے تعلقات مثالی ہیں؟

اس پر علامہ اللہ رکھا انجم نے ایک آنکھ دبا کر مسکراتے ہوئے پان کی پیک تھوکی؟ کہنے لگے شکر کریں چین میں نہ تو اکثریت شیعہ ہے اور نہ ہی پاکستان اور چین کے درمیان کوئی ڈیورنڈ لائن ہے اور نہ ہی پاکستان انیس سو سینتالیس میں چین سے الگ ہوا اور نہ ہی جب سنکیانگ میں چینی فوجیں داخل ہوئیں تو کشمیر کی طرح پاکستان کا اس پر دعویٰ تھا۔ ورنہ چین تائیوان کے بجائے پاکستان پر دانت پیس رہا ہوتا۔ اور آپ کے لیڈر انڈیا کے ساتھ جامِ صحت ٹکراتے ہوئے ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی کا دعویٰ کررہے ہوتے۔

مگر علامہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ جن اقوام کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ نہیں ہیں انہیں بھی تو پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اب امریکہ کو ہی لے لیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنی عزتِ نفس داؤ پر لگا کے امریکہ کا ساتھ دیا۔ لیکن امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دو ٹکے کی بیسوا سمجھا۔ خود پاکستان میں جاسوسی کے اڈے لے لیے لیکن پاکستان کو جب پینسٹھ میں اسلحے کی ضرورت تھی تو اسلحہ بند کردیا۔ اکہتر میں جب پاکستان کے دوٹکڑے ہورہے تھے تو ساتواں بحری بیڑہ خلیجِ بنگال میں محض ڈیزل پھونکتا رہا۔

پاکستان کو جب ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت پڑی تو امریکہ سب سے بڑا ولن بن کے کھڑا ہوگیا۔ جیسے ہی افغانستان سے سوویت فوجیں واپس گئیں تو پاکستان کو اپنے مفادات کے مکھن میں سے بال کی طرح نکال پھینکا۔ اور پھر افغانستان سے طالبان کو نکالنے کی ضرورت پڑی تو پھر پاکستان کو خوشامد، دھونس اور امداد کی گاجر دکھا کر اپنے ساتھ کرلیا۔

اس کے باوجود امریکہ اور اس کے مغربی حواریوں کو پاکستان مسلسل دہشت گردی کا سرچشمہ نظر آتا ہے۔ وہ پاکستان کو ایک جوتا ڈرون کا مارتا ہے اور پھر تشریف پر امداد کا مرہم لگا کے ایک اور ڈرونی جوتا دے مارتا ہے۔ اور اب پورے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں اسے صرف ایک ملالہ ہی ملی ہے جسے امریکہ اور اس کے مغربی درباری اٹھائے اٹھائے گھوم رہے ہیں۔ اگر ملالہ کا نام عافیہ صدیقی ہوتا تو کیا تب بھی مغرب ایسے ہی کرتا؟

علامہ اللہ رکھا انجم نے دوسری بار پیک تھوکتے ہوئے کہا کہ سیدھی طرح کہو کہ یہ سب فضول باتیں تم اس لیے کررہے ہو کہ مجھے پان کا آنند نہیں لینے دو گے۔ تم نے وہ محاورہ تو سنا ہی ہوگا کہ جب بائی جی کوٹھے پر بیٹھ ہی گئیں تو پھر کیا عزت اور کیسی بے عزتی؟ ہاتھ بھی پھیلانا اور عشوے، غمزے، نخرے اور غیرت بھی دکھانی۔

چلو مان لیتے ہیں کہ دوسرے تمہاری عزت نہیں کرتے لیکن تم اپنی عزت کتنی کرتے ہو؟ تم نے جناح کی کتنی عزت کی؟ بس یہی نا کہ انہیں نوٹوں پر چھاپ دیا اور ان کی تصویر دفتروں میں لگا کر ہر وہ کام کیا جس سے سختی سے منع کیا گیا تھا؟ تم نے حسین شہید سہروردی کی کتنی عزت کی؟ پہلے وزیرِ اعظم بنایا پھر غدار بنادیا۔ بنگالیوں کو اتنی عزت دی کہ سات ہزار سالہ انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اکثریت اقلیت سے تنگ آ کے بھاگ گئی۔ جانے تمہیں اس کارنامے پر نوبیل پرائز کیوں نہ ملا؟

اور اب بلوچوں کی بنگالیوں سے بھی زیادہ عزت افزائی ہو رہی ہے؟ میاں ستّر لاکھ بلوچ تو تم سے سنبھل نہیں رہے اور تم نے ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے کشمیر کا، افغانستان کا، فلسطینیوں کا، برمی مسلمانوں کا، مصریوں کا، شامیوں کا اور خود کو کہتے ہو مسلم دنیا کا ایٹمی قلعہ۔ یہ ایٹم بم نہیں بلکہ غریب کے در پے بندھا ہاتھی ہے جس کے گنے تک پورے نہیں ہوپا رہے تم سے۔ بلکہ میں تو یوں کہوں کہ ایٹم بم نہ ہوا سولہ سال کی دوشیزہ ہوگئی کہ کوئی اٹھا کر نہ لے جائے۔ اپنی حفاظت کے لیے بنایا تھا نا؟ اب اس کی حفاظت کے لالے پڑے ہیں۔ یہ بتاؤ سعودی عرب میں کتنے پاکستانیوں کے سر قلم ہوئے؟ کبھی کسی سعودی کو پاکستان کی کسی جیل میں ایک سال تو بند کرکے دکھاؤ ۔

اور خبردار مجھے آئندہ ملالہ یا عافیہ کا راگ نہ دینا۔ چلو چوہدری ظفراللہ تو قادیانی تھا تم سے عزت نہ کی گئی تو بین الاقوامی عدالتِ انصاف اسے اٹھا کر لے گئی۔ لیکن آفتابِ موسیقی بڑے غلام علی خان تو قادیانی نہیں تھے انہیں کیوں پاکستان آ کر واپس انڈیا جانا پڑا۔ قراۃ العین حیدر تو کرسچن نہیں تھی اسے نو برس بعد کیوں یہ زمین آگ کا دریا محسوس ہونے لگی؟ جوش تو نہرو کا ہاتھ جھٹک کر یہاں آیا تھا۔ آخر میں فقیر ہو کر کیوں مرا؟ فیض صاحب تو کہیں سے نہیں آئے تھے نا؟ وہ کیوں ماسکو، بیروت اور لندن میں رہنے پر مجبور کردیے گئے۔ ہاں بھٹو کو پھندے کی شکل کا نشانِ پاکستان عطا ہوا اور اس کی بیٹی کو بلٹ کی شکل میں ہلالِ جرات۔ اور کیا دنیا نے تمہیں فزکس کا نوبیل پرائز دے کر عزت دینے کی کوشش نہیں کی تھی؟ اور تم نے اس نوبیل پرائز ونر کی قبر پر لگی تختی پر ہی کالک پھیر دی؟

عافیہ کو امریکہ کے ہاتھ میں کس نے دیا؟ موساد نے کہ را نے؟ ملالہ اگر واقعی تمہاری بیٹی یا عزت ہے تو پھر ملالہ پاکستان سے باہر کیوں ہے؟ وہ تو عافیہ کی طرح قید میں نہیں۔ کیا عجب بات ہے؟ جو قید میں ہے وہ بھی مغرب کی قید میں ہے اور جو آزاد ہے وہ بھی مغرب کی قید میں آزاد ہے۔ اور تیرہ چودہ برس کی وہ بچی جسے اپنے دستخط بھی نہیں آتے۔ وہ بھی جب توہینِ رسالت کے الزام سے عدالت میں بری ہوتی ہے تو اسے بھی جاں بخشی کے لیے مغرب کی طرف بھاگنا پڑتا ہے اور اس پر جھوٹا الزام لگانے والا انہی گلیوں میں ہار پہنے گھومتا ہے۔

اور ہاں یاد آیا تمھارا وہ حکمران جو سینے پر ہاتھ مار کے کہتا تھا کہ ہاں میں نے سی آئی اے کو پاکستانی فروخت کیے اور دوسرے سانس میں کہتا تھا کہ ریپ اس لیے ہورہے ہیں تاکہ مغرب میں پناہ لینے میں آسانی ہو۔ شائد اسی لیے تم اپنی آنکھ پر سو فیصد اور مغرب کے ایجاد کردہ ڈی این اے ٹیسٹ پر بالکل یقین نہیں رکھتے۔ مگر چاند دکھانے کے لیے مغرب کی دوربین پر تمہیں اپنی آنکھوں سے زیادہ اور میخائل کلاشنکوف کی ایجاد پر تمہیں اپنے ہاتھوں سے بھی زیادہ یقین ہے۔

لیکن علامہ پھر بھی کوئی تو وجہ ہوگی کہ پاکستانیوں کو پوری دنیا پاکستان کے اتنی خلاف محسوس ہوتی ہے۔ صومالینز یا انڈونیشینز یا بنگلہ دیشیوں یا ترکوں یا مصریوں وغیرہ کو ایسی شکایت کیوں نہیں؟

علامہ اللہ رکھا انجم نے اپنی عینک اتار کے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کہ شائد یہ سب قومیں خود پر یقین رکھتی ہیں اور اپنی کچھ نا کچھ عزت خود بھی کرتی ہیں اسی لیے دوسرے بھی انہیں تھوڑی بہت عزت دینے پر مجبور ہیں۔

ہوگئی تسلی آپ کی؟ اب میں سکون سے پان کھا لوں؟

اسی بارے میں