قبائلی علاقوں میں پولیو کے تین مزید کیسز کی تصدیق

Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

محکمہ صحت کے تازہ رپورٹ کے مطابق تین مزید پولیوکیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس سے اس سال فاٹا میں مجموعی طورپر پولیو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تئیس ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین مزید کیسز ایف آر بنوں اور شمالی وزیرستان کے علاقوں میں سامنے آئے ہیں جہاں تین بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پولیو مہم پر شدت پسندوں کی جانب سے پابندی لگائی گئی تھی جس کی وجہ سے وہاں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے جبکہ ایف آر بنوں میں زیادہ تر لوگوں نے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پولیو سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس سال ملک بھر میں اب تک مجموعی طورپر تریالیس 43 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سب زیادہ یعنی تئیس قبائلی علاقوں سے سامنے آئے ہیں۔

محمکہ صحت کے حکام کے مطابق فاٹا میں سب سے زیادہ پولیو کیسز کی تصدیق شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں ہوئی ہے جہاں کشیدگی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے پچھلے ایک سال کے دوران کوئی باقاعدہ انسداد پولیو مہم نہیں چلائی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے شکار بچوں کی تعداد میں اضافے کی بڑی وجہ ان علاقوں میں امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔ ان کے مطابق اکثر علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کے لیے چلائی جانے والی مہم کے لیے حلات سازگار نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس بیماری پر قابو نہیں پایا جارہا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باڑہ میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم ملتوی کردی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کی مخالفت میں اضافے کی اہم وجہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی ویکسینیشن مہم بھی ہے جنہوں نے سنہ 2011 میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں جعلی مہم چلائی جس کے بعد پولیو کےحوا لے سے لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور طالبان نے پولیو ورکرز اور ٹیموں پر حملے شروع کر دیے۔

اسی بارے میں