برطانیہ: ’پاکستانی لڑکی، 10 سال قید، بارہا ریپ‘

الیاس آشر اور ان کی بیگم طلعت
Image caption الیاس آشر اور ان کی بیگم کو اس سے قبل انسانی سمگلنگ اور مرعات کے فراڈ میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے

برطانیہ میں ایک عمر رسیدہ پاکستانی جوڑے کو ایک پاکستانی لڑکی کو اسمگل کر کے برطانیہ لانے، اس کو دس سال تک تہہ خانے میں مقید رکھنے اور اسے جنسی غلام بنائے رکھنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

الیاس اور طلعت آشر نامی یہ میاں بیوی اس گونگی بہری لڑکی کو پاکستان سے لائے تھے اور سیلفرڈ میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھتے تھے۔

حکام نے اس بیس سالہ لڑکی کو سنہ دو ہزار نو میں بازیاب کرایا تھا۔ جب اس لڑکی کو برطانیہ لایا گیا تھا اس وقت اس کی عمر صرف دس سال تھی۔

چوراسی سالہ الیاس آشر کو ریپ کے تیرہ الزامات کا بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اس جوڑے کو تئیس اکتوبر کو مانچسٹر کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی۔

الیاس اور ان کی ارسٹھ سالہ بیگم طلعت کو اس سے قبل انسانی سمگلنگ اور مراعات کے فراڈ میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

اس لڑکی کا نام قانونی وجوہات کی وجہ سے شائع نہیں کیا جا سکتا۔

الیاس آشر کے گھر میں غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کے بعد ٹریڈنگ سٹینڈرڈز کے حکام نے اس گھر پر چھاپہ مارا جس دوران اس لڑکی کو بازیاب کرایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس لڑکی سے گھر کی صفائی اور کھانا پکوایا جاتا تھا اور اسے خاندان کے دوسرے گھروں میں بھی گھر کے کام کرنے کے لیے لے جایا جاتا تھا۔

اس لڑکی کے ساتھ جو ہوا اس کی تفصیلات سامنا آنا اسی وقت ممکن ہوا جب اسے اشاروں کی زبان سکھائی گئی تاکہ پولیس اس کا انٹرویو کرسکے۔

پولیس کے مطابق اس لڑکی کے نام پر ہزاروں پاؤنڈ کی مراعات حاصل کی گئیں۔

Image caption اس لڑکی کو تہہ خانے میں قعد رکھا جاتا تھا

اس سے قبل جوڑے کی چھیالیس سالہ بیٹی فائزہ کو مراعات کے فراڈ میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔

کراؤن پروسیکیوشن سروس کے ایئن رشٹن کا کہنا تھا کہ ’جب اس لڑکی کو پہلی مرتبہ برطانیہ لایا گیا تو وہ ایک بچی تھی‘۔

’وہ سن اور بول نہیں سکتی تھی اور اشاروں سے بات بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے کوئی رشتے دار اور دوست نہیں تھے جن کے پاس وہ جا سکے۔ وہ کبھی سکول نہیں گئی تھی اور اس ملک کی ثقافت کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی‘۔

جس پاسپورٹ پر یہ لڑکی سنہ دو ہزار میں برطانیہ آئی تھی اس کے مطابق اُس وقت اُس کی عمر بیس سال تھی۔ اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امیگریشن کا عملہ ان کی عمر کے فرق کو کیسے نہیں دیکھ سکا۔

انسانی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے ادارے ’سٹاپ دی ٹریفک‘ کی ہینا فلنٹ کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ پولیس، بارڈر ایجنسی، اساتذہ، وکیلوں اور دیگر اداروں کو صحیح تربیت دی جائے تاکہ وہ انسانی سمگلنگ کے واقعات کی نشاندی کر سکیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’انہیں دس سال پہلے اس ملک میں لایا گیا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک ہم کافی کچھ سیکھ چکے ہیں لیکن بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘

اسی بارے میں