پاکستان میں آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ثمن ندیم کے گھر دو مہینے پہلے دوسری بچی کی پیدائش ہوئی۔ خبر ملنے پر ثمن کو مبارکباد تو ملی مگر سب سے پہلے یہی سوال کیا گیا بچی آپریشن سے ہوئی ہے یا نارمل؟

بدلتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں اب یہ صرف یہ ایک سوال ہی نہیں بلکہ بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

ثمن کی دونوں بچیوں کی پیدائش بہت سے پاکستانی بچوں کی طرح آپریشن سے ہی ہوئی جو ملک کے شہری طبقے میں اس بدلتے رجحان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

آپریشن کے ذریعے پیدائش کو عالمی ادارۂ صحت نے دنیا بھر میں اس کے نقصان دہ اثرات کے باعث ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا گیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے دنیا بھر میں سی سیکشن یعنی آپریشن کے ذریعے پیدائش کی شرح 15 فیصد تجویز کی تاہم 2010 میں اسے یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ ملکوں کی آبادی اور طبی سہولیات میں پائے جانے والے فرق کی بنا پر ایسی کوئی پابندی ممکن نہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سی سیکشن سے بچوں کی پیدائش کی شرح 25 سے 28 فیصد ہے ۔ جبکہ بھارت اور چین میں 30 سے 33 فیصد جبکہ افغانستان میں سی سیکشن سے بچوں کی پیدائش نہ ہونے کے برابر ہے۔

پاکستان کے شہری معاشرے کی تصویر ذرا مختلف ہے۔ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں قائم صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام ہسپتال میں ہر سال لگ بھگ 24 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔

ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 50 فیصد بچوں کی پیدائش اب آپریشن کے ذریعے ہو رہی ہے۔

ہسپتال کے شعبہ امراضِ خواتین کی سربراہ ڈاکٹر مریم ملک کہتی ہیں اس شرح میں اضافے کی وجہ ہسپتال میں ریفرل کیسز کا آنا ہے اور ساتھ ہی پیچیدگیوں والے کیسز بھی یہاں ہی بھجوائے جاتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے شہروں میں محض سرکاری ہسپتالوں میں ہی سی سیکشن سے بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ شہروں میں قدم قدم پر قائم پرائیوٹ ہسپتال اور میٹرنٹی ہومز بچہ پیدا کرنے کے لیے ’تکلیف کے بغیر آپریشن‘ کا حل تجویز کرتے ہیں۔

ان کلینکس میں عام طور سے ایک سیزیرین سیکشن یعنی آپریشن سے بچوں کی پیدائش پر کم سے کم 30 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ روپے کی لاگت آتی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور ملک کے معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کہتے ہیں کہ ’سی سیکشن محض اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ جب پیٹ کاٹ دیا گیا تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے، کبھی زخم نہیں بھرتا اور کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے‘۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید اسے منافع بخش کاروبار بھی گردانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈاکٹرز جان بوجھ کر وقت بچانے اور پیسہ کمانے کی غرض سے اب سی سیکشن کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔

تاہم پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر حضرات کے نزدیک سیزیرین کے بارے میں ابہام ہے۔ لاہور کے ایک بڑے پرائیوٹ ہسپتال میں موجود گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ثاقب سعید اس سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ ’اچھے اور برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں اور یہ الزام ہے کہ آپریشن جان بوجھ کر کیے جاتے ہیں۔ سیزیرن سیکشن ایک بہت خطرناک بات ہے اور یہ مفروضہ ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور جان بوجھ کر سیزیرین سیکشن نہیں کیے جاتے‘۔

Image caption بہت سے ڈاکٹر اس آپریشن کے زریعے بچوں کی پیدائش کے رجحان کے لیے مریضوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں

22 سال امریکہ میں گائنی کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد ڈاکٹر ناصر خاکوانی اب لاہور میں پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہےکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کو جدید آلات کی تربیت نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذرا سی بات پر سیزیرین کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر خاکوانی کے مطابق اس ضمن میں جدید آلات تو دور کی بات عمومی طور پر ہمارے ہاں محکمۂ صحت کی جانب سے ایسے کوئی ضوابط ہی نہیں جس میں ہم ڈاکٹروں کی قابلیت کی تصدیق کر سکیں۔

پاکستان میں 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو خود مختاری دی گئی تو وفاقی وزارت صحت بھی تحلیل ہو گئی۔ محکمۂ صحت پنجاب کا کہنا ہےکہ معاشرے میں سیزیرین سیکشن کے اضافے کے لیے قوانین اس لیے نہیں ہیں کیونکہ یہ ڈاکٹر اور مریض کا آپس کا معاملہ ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز کے نزدیک سی سیکشن میں اضافے کی وجہ مریض کا خود اس پر زور دینا ہے۔

ڈاکٹر مریم ملک کےمطابق ان کے پاس آنے والی اکثر خواتین بیٹے کی خواہش میں ہر سال بچہ پیدا کرتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث ہر بار آپریشن ہی کیا جاتا ہے۔ جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ خاندان کو بیٹا دینے کی لگن میں وہ اپنی جان سے کھیل رہی ہوتی ہیں۔

دوسری طرف ڈاکٹر شیر شاہ سید پاکستان کے شہروں میں امنِ عامہ کی خراب صورتِ حال کو بھی ذمے دار ٹھہراتے ہیں۔

’دنیا میں 70 فیصد بچے قدرتی طور پر رات کو دو بجے کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں آپ رات کے دو بجے ہسپتال جانے کا رسک نہیں لیں گے، آپ دوپہر کو جائیں گے اور شام ڈھلے سی سیکشن کرا کر بچہ لے کر گھر آ جائیں گے۔‘

21 سال کی عمر میں دو بچیاں سی سیکشن سے پیدا کرنے کے بعد ثمن اب گھر کا زیادہ کام کاج نہیں کر پاتیں۔ انھیں کمر میں تکلیف رہتی ہے، تاہم وہ اور اس کی دونوں بچیاں خوش قسمت ہیں کہ وہ سی سیکشن کے مضر اثرات سے جزوی طور پر محفوظ ہیں۔

تاہم پاکستانی معاشرے میں اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک نہ ہونے اور حکومتی سطح پر سنجیدگی مشکوک ہونے کے باعث مستقبل قریب میں اس بارے میں کسی قسم کی قانون سازی ہوتی نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں