ڈرون حملوں میں کتنے شہری ہلاک ہوئے

Image caption ڈرون ٹیکنالوجی تک دوسرے ملکوں کی رسائی کے بعد اس کے استعمال پر خدشات بڑھتے جا رہے ہیں

برطانیہ میں قائم غیر سرکاری تنظیم بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم کے مطابق پاکستان میں سنہ دو ہزار چار سے سنہ دو ہزار تیرہ تک تین سو چھہتر ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں اندازآً ڈہائی ہزار سے تین ہزار چھ سو افراد کے ہلاک ہوچکے ہیں۔

تنظیم کو اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ سی آئی اے نے گذشتہ سال ’ڈبل ٹیپ‘ کا متنازع طریقۂ کار استعمال کیا۔ اقوام متحدہ نے اس طریقۂ کار کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیا تھا۔اس کی ایک مثال چار جون سنہ دو ہزار بارہ کو القاعدہ کے رکن یحییٰ اللبی کے خلاف کیا گیا ڈرون حملہ ہے۔

حکومتِ پاکستان کے مطابق کم از کم تین سو تیس ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں کم از کم بائیس سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں چار سو سے چھ سو افراد کے عام شہری ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ چھ سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم

سنہ دو ہزار چار سے دو ہزار تیرہ تک ہونے والے حملے

  • حملوں کی تعداد: 376
  • صدر اوباما کے دورِ اقتدار میں ہونے والے حملے:325
  • ہلاکتوں کی تعداد: 2525- 3613
  • عام شہری: 407 - 926
  • ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد: 168 -
  • 200زخمی ہونے والوں کی تعداد: 1117 - 1505

ساؤتھ ایشیا ٹیررئزم پورٹل

ساوتھ ایشیا ٹیررئزم پورٹل کے مطابق سب سے زیادہ حملے دو ہزار دس میں ہوئے جن کی تعداد نوے تھی۔

اب تک ہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑے حملے (وہ حملے جن میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے):

  • سترہ مارچ دو ہزار گیارہ، اکتالیس ہلاکتیں، دتہ خیل، شمالی وزیرستان
  • بارہ جولائی دو ہزار گیارہ، اکتیس شدت پسند ہلاک، پندرہ دیگر افراد زخمی، برمل، جنوبی وزیرستان
  • سترہ دسمبر دو ہزار گیارہ، بتیس شدت پسند ہلاک، سپین دارنگ، خیبر ایجنسی
  • سولہ فروری دو ہزار نو، تیس شدت پسند ہلاک، تین زخمی، کرم ایجنسی
  • تئیس جون دو ہزار نو، دو علیحدہ حملوں میں (ایک نمازِ جنازہ اور ایک عسکریت پسندوں کی پناہ گاہ پر) اسی افراد ہلاک جن میں خواز ولی محسود نامی کمانڈر بھی ہلاک ہوئے، لٹکہ گاؤں، لدھا سب ڈویژن، جنوبی وزیرستان
  • آٹھ جولائی دو ہزار نو، جنوبی وزیرستان میں یکے بعد دیگرے دو حملوں میں اڑتالیس افراد ہلاک ہوئے
  • چار اکتوبر دو ہزار نو، قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک مدرسے پر حملہ کیا گیا اور اس میں اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں