پاکستان کے چھبیس منتخب نمائندوں کی رکنیت معطل

Image caption الیکشن کمیشن نے نوٹیفیکیشن متعلقہ سپیکروں کو بھجوا دیئے ہیں

الیکشن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر 26 ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کردی ہے۔ ان ارکان کی رکنیت اُس وقت تک معطل رہے گی جب تک وہ گوشوارے جمع نہیں کرواتے۔

اس کے علاوہ یہ ارکان سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کرسکیں گے، جبکہ اس عرصے کے دوران دیگر مراعات سے بھی مستفید نہیں ہوسکیں گے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن ارکان پارلیمنٹ اور ارکان صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے رکن سینیٹر فیصل رضا عابدی کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر سید مصطفی کمال شامل ہیں، جبکہ ارکان قومی اسمبلی میں عبدالرحمٰن خان کانجو، شاہجہان بلوچ اور خواتین کے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی علیزہ اقبال حیدر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے جن ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے اُن میں صوبہ سندھ کے نو، صوبہ خیبر پختون خوا کی اسمبلی کے سات، پنجاب اسمبلی کے چار جبکہ بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن شامل ہیں۔

اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے 40 ارکان پارلیمنٹ کی فہرست جاری کی تھی جنہوں نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائی تھیں تاہم سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت دیگر 14 ارکان پارلیمنٹ نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروا دی تھیں۔

الیکشن کمیشن نے ان ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت کی معطلی کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کے علاوہ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کو نوٹیفکیشن بھجوا دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جن ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل کی گئی ہے وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرواکر اپنی رکنیت بحال کرواسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے 1168 ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسبلیوں کو 30 ستمبر تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کی مہلت دی تھی اور الیکشن کمیشن کو 15 اکتوبر تک عوامی نمائندگی کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا تاہم عید کی چھٹیوں کی وجہ سےنوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا تھا ۔