ڈرون حملے پاکستان امریکہ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں:نواز شریف

Image caption وزیراعظم نواز شریف نے حکومت سنبھالنے کے بعد سے ہی ڈرون حملوں کے بارے میں قدرے سخت رویہ اپنایا ہے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے امریکی دارالحکومت میں تھنک ٹینک یونائٹڈ سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے ہمارے لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں اور یہ ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں اور ان حملوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

’امریکہ سن رہا ہے لیکن وقت زیادہ نہیں‘

ایک سرد باب کے بعد نواز اوباما ملاقات

پاکستان کے سرکاری ذرائعِ ابلاغ کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ حکومت 1999 سے ملکی سطح پر اصلاحات اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے آغاز کرنا چاہتی ہے جو فوجی بغاوت کے نتیجے میں رک گئی تھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان امریکی ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے بقول شدت پسندی اور دہشت گردی سب سے بڑا چیلنج ہے لیکن پاکستان نہ دہشت گردی کا مرکز ہے اور نہ ہی اس کے لیے ذرائع فراہم کرنے کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا کہ درحقیقت پاکستان گذشتہ ایک دہائی کے دوران خود دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں قابل ذکر ہیں: ’ہم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سینکڑوں خودکش حملوں کا سامنا کیا، جن میں سات ہزار فوجی، سکیورٹی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔‘

انہوں نے شدت پسندی کے واقعات میں 40 ہزار عام شہریوں کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پائیداری سے تشدد ختم کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا راتوں رات نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کل جماعتی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امن کو موقع دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کی قیادت میں امن اور مصالحتی عمل کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہم افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

وزیراعظم نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت مشترکہ تاریخ اور مستقبل رکھتے ہیں اور یہ کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے کشمیر سمیت تمام معاملات کا حل چاہتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری اسلحہ سے لیس ریاست ہے اور پاکستان اسلحہ کی کسی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر اپنی آزادی اور خود مختاری کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔

نواز شریف نے یہ بھی کہا امریکہ کو پاکستان کے ساتھ سول نیوکلئیر تعاون کے معاملے میں غیر مساویانہ رویہ ختم کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں