’پولیو ٹیموں پر حملے نہ کرنے کی شرط نہیں رکھ سکتے‘

Image caption لوگ اپنے بچوں کو قطرے پلانا چاہتے ہیں مگر وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں: وزیر مملکت

پاکستان کی وزیر مملکت سائرہ تارڑ نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پولیو کی ٹیموں پر حملوں کو روکنے کی شرط نہیں رکھی جا سکتی۔

پولیو ڈے کے موقع پر وزیر مملکت سائرہ تارڑ نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں پولیو ٹیموں پر حملوں کی بندش کی شرط کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ :’نہیں نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔اگر مذاکرات ہوگئے تو یہ (پولیو ٹیموں پر حملے) ویسے ہی بند ہو جائیں گے۔‘

وزیر مملکت سائرہ تارڑ، انٹریو

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کی دھمکیاں اور پولیو ٹیموں پر حملے ہی پولیو کے پھیلاؤ کی اصل وجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں دو لاکھ ساٹھ ہزار ایسے بچے ہیں جن تک پولیو ٹیموں کو رسائی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پولیو صرف وہیں پایا جاتا ہے جہاں رسائی کا مسئلہ ہے۔’رسائی کا مسئلہ صرف تب ہوتا ہے جب علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو، جہاں پولیو مہم کے کارکن، محکمہِ صحت کے کارکن اور رضاکار محفوظ نہیں ہوتے۔‘

پولیو مہم کے خلاف روکاوٹوں کو دور کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخواہ کی مدد سے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جرگہ بلایا گیا ہے اور ساتھ ہی کچھ علاقوں میں فوج کی مدد بھی لے رہے ہیں۔

سائرہ تارڑ نے کہا کہ مذہب کی وجہ سے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔’لوگ اپنے بچوں کو قطرے پلانا چاہتے ہیں مگر وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔ ریاست مخالف عناصر ان کو منع کرتے ہیں اور ان کو دھمکیاں دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں دو لاکھ ساٹھ ہزار ایسے بچے ہیں جن تک پولیو ٹیموں کو رسائی نہیں ہے۔

اسی بارے میں