خیبر پختونخوا پولیس کے درجنوں اہلکار بدعنوانی کے الزام میں معطل

Image caption گذشتہ روز بھی اس مہم کے تحت پشاور پولیس کے دس افسران کو معطل کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں بدعنوان پولیس اہلکاروں کے خلاف جاری مہم میں اب تک سو سے زائد پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔

اتوار کو پشاور میں آئی جی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل ناصر خان درانی نے چند دن قبل پولیس فورس سے کرپٹ اور نااہل اہلکاروں کو مرحلہ وار فارغ کرنے کےلیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اصلاحات: ’پولیس افسران اثاثہ جات ظاہر کریں‘

بیان کے مطابق اس سلسلے میں اتوار کو دو ریجنز کوہاٹ اور ہزارہ سے مزید 26 اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔

ان اہلکاروں میں چھ انسپکٹر، بارہ سب انسپکٹر، دو اسٹنٹ سب انسپکٹر اور تین دیگر رینکس کے اہلکار شامل ہیں۔

اس سے قبل پشاور، مردان اور ڈیرہ اسماعیل خان ریجنز کے درجنوں پولیس اہلکار کرپشن کے الزامات کے تحت معطلی کے بعد تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مردان ریجن سے معطل ہونے والے اہلکاروں میں پانچ انسپکٹر، چھ سب انسپکٹر، نو اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور چار دیگر رینک کے اہلکار شامل ہیں۔

ڈیرہ اسمعیل خان ریجن میں بھی اکیاون پولیس اہلکاروں کو بدعنوانی کے الزام کے تحت معطل کیا گیا تھا جن میں چار انسپکٹر، پندرہ اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور بتیس دیگر رینک کے اہلکار شامل تھے۔

پشاور پولیس کے بھی دس پولیس افسران کو معطل کیا گیا ہے جن میں پانچ ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معطل کیے جانے والے اہلکاروں کے خلاف انکوائری کی کارروائی شروع کردی گئی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد تیسرے اور آخری مرحلے میں ایسے تمام عناصر کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائےگا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے دیگر ریجنز میں تعینات بدعنوان اہلکاروں کی نشاندہی کرنے کےلیے تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی انکوائری مکمل ہونے کے بعد بہت جلد انہیں بھی معطل کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے تقریباً ایک ماہ قبل اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا جس کے بعد سے پولیس فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ پولیس فورس سے بدعنوان اور نااہل اہلکاروں کو نکالنے کےلیے بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے بھی پولیس افسران پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ بد عنوان اہلکاروں کو فورس سے فوری طور پر نکالا جائے۔ تاہم اس مہم میں اب تک ایس ایچ او رینک سے اوپر کے کسی افسر کو نوکری سے برخاست یا معطل نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں