ڈیرہ بگٹی: حملے میں قبائلی سردار سمیت سات افراد ہلاک

Image caption ڈیرہ بگٹی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو 2000 کے بعد سے شورش سے متاثر ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شورش زدہ علاقے ڈیرہ بگٹی میں حکومت کے حامی ایک سردار کے گھر پر حملے میں سردار اور تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کے اسسٹنٹ کمشنر جبار بلوچ نے ہمارے نامہ نگار کاظم مینگل کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح ڈیرہ بگٹی کے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے تقریباً 20 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع لوٹی کے علاقے میں پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے لوٹی میں دودا خان عرف دارا خان کے گھر پر حملہ کر کے فائرنگ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دارا خان، ان کا ایک بیٹا، دو خواتین اور تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ اس واردات کے محرکات ابھی تک سامنے نہیں آئے اور پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

ڈیرہ بگٹی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو 2000 کے بعد سے شورش سے متاثر ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں قیام امن کے لیے چند سال بیشتر ایک امن فورس تشکیل دی گئی تھی جس کے افراد اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

جنوری میں بھی ڈیرہ بگٹی میں تشدد کے مختلف واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے جبکہ پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

گذشہ سال نومبر میں بھی ڈیرہ بگٹی میں ایک بم دھماکے میں رکن قومی اسمبلی میر احمدان بگٹی سمیت تیرہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

2005 کے اواخر میں بگٹی قبیلے کے سابق سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کے پہاڑوں میں چلے جانے اور بعد میں ان کی ہلاکت کے بعد سے ڈیرہ بگٹی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس شدید کشیدگی کے دوران 40 سے 50 ہزار افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے آٹھ سال کے بعد جولائی میں ڈیرہ بگٹی میں واقع قلعہ خالی کر دیا تھا جس کے بعد بگٹی قبیلے کے سینکڑوں افراد واپس اپنے آبائی علاقے میں پہنچے تھے۔

واپس جانے والے افراد کے قافلے کی سربراہی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتےگہرام بگٹی نے کی تھی۔

اسی بارے میں