’اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں‘

ڈرون
Image caption ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں کئی بار احتجاج کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس میں ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک رکن ایلن گریسن نے کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بغیر پاکستان کی منظوری کے اس طرح کے حملے نہیں ہو سکتے۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کانگریس کے ڈیموكریٹ ممبر ایلن گریسن نے کہا کہ انھیں اوباما انتظامیہ کی طرف سے کسی طرح کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ سال کے آخر تک پاکستان میں ڈرون حملوں میں کوئی کمی آئے گی۔

وزيرِ اعظم نواز شریف کے امریکہ کے دورے کے فوراً بعد خارجہ امور کے لیے ان کے مشیر سرتاج عزیز نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ڈرون حملوں کو بند کرنے کا امریکہ کی طرف سے کوئی رسمی اعلان نہیں ہوگا لیکن سال کے آخر تک ان میں کافی کمی آ جائے گی۔

’اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا بحران یہ خاموشی ہے‘

’ڈرون حملے رکوانے کے لیے دھمکی نہیں بات چیت کی ضرورت‘

ایلن گریسن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان چاہے تو یہ حملے کل بند ہو سکتے ہیں اگر وہ امریکی ڈرونز کو سہولت دینا بند کر دے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’پاکستانی ایئر فورس کافی طاقتور ہے اور اس کے پاس قوت ہے ، اپنی فضائی سرحد پر وہ جب چاہے پابندی لگا سکتے ہیں۔ پاکستان کی منظوری کے بغیر اس طرح کی کارروائی ممکن ہی نہیں ہے۔‘

انھوں نے عراق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراق کی جنگ اسی وقت ختم ہوئی جب وہاں کی حکومت نے امریکی فوج سے وہاں سے جانے کے لیے کہہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ پاکستان میں بھی ایسے حالات پیدا ہوں گے اور تبھی وہاں ڈرون حملے بند ہوں گے۔

ایلن گریسن کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ شدت پسندوں کو قابو کر سکتی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے ہاتھ خون سے نہیں رنگنے چاہییں۔

انھوں نے کہا ’شدت پسندوں کی تعداد مشکل سے سو دو سو ہوگی، لیکن پاکستانی فوج کی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ وہ چاہیں تو انہیں قابو میں لا سکتے ہیں اور ہزاروں شہریوں کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔‘

ایلن گریسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں میں مارے جانے والے بے گناہ شہریوں کو امریکہ کی طرف سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔

منگل کو ہی کانگریس میں شمالی وزیرستان سے واشنگٹن آنے والے شخص رفیق الرحمٰن کے خاندان کے کیس کی سماعت ہوئی۔ رفیق الرحمٰن کی والدہ آمنہ بی بی عید سے ٹھیک ایک دن پہلے ڈرون حملے میں ماری گئیں اور ان کے بیٹے زبیر اور بیٹی نبيلہ اسی حملے میں زخمی ہوئے۔

کانگریس ممبر ایلن گریسن کے علاوہ صرف چار اور ممبر اس سماعت میں شریک ہوئے۔

رفیق الرحمن نے کانگریس سے سوال کیا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی والدہ کا کیا قصور تھا۔

انھوں نے کانگریس کے ارکان اور وہاں موجود بین الاقوامی میڈیا کے سامنے ڈرون حملے کے بعد کا منظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی ان کے علاقے میں گنے چنے اسکول تھے۔ اب ڈرون حملوں کے خوف سے بچے سکول بھی نہیں جاتے۔

انھوں نے کہا کہ وہ صدر اوباما سے کہنا چاہیں گے ’یہ ظلم بند کریں کیونکہ طاقت سے آج تک کہیں بھی امن نہیں قائم ہو پایا ہے۔‘

ان کے بیٹے زبیر نے اپنی دادی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں نیلا آسمان بہت پسند تھا لیکن اب زبیر کو نیلا آسمان اچھا نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بادل گھرے ہوتے ہیں تو ڈرون حملے نہیں ہوتے اور اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ آسمان ہمیشہ ویسا ہی رہے۔

کانگریس ممبر ایلن گریسن نے کہا ’پاکستان سے ہزاروں میل دور واشنگٹن میں یہ فیصلہ کیوں ہوتا ہے کہ کون زندہ رہے گا اور کون نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا، ’یہ فیصلہ خدا کا ہوتا ہے ، لیکن یہاں یہ فیصلہ ڈرون کر رہے ہیں۔‘

امریکی دورے میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور صدر اوباما کے ساتھ ملاقات میں بھی اس کا ذکر آیا۔

صدر اوباما نے ڈرون کا کسی طرح کا ذکر کیے بغیر کہا کہ دونوں ممالک اس بات کی کوشش کریں گے کہ کس طرح سے پاکستان کی خود مختاري کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں