مارچ ماما مارچ

عبد القدیر بلوچ
Image caption کوئٹہ سے کراچی تک سات سو کلومیٹر ہے اور یہ فاصلہ عبدالقدیر بلوچ پیدل طے کریں گے

محترم ماما عبدالقدیر بلوچ صاحب: میں گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے آپ کے لانگ مارچ کی حمایت کرتا ہوں اِس لیے نہیں کہ اِس پُر امن، شاندار اور تاریخی لانگ مارچ کے نتیجے میں آپ کے بیٹے جلیل ریکی کے قاتل پھانسی پر جھولیں گے یا فرزانہ مجید کا بھائی ذاکر مجید فوری طور پر رہا ہو جائے گا۔اس لیے بھی نہیں کہ آپ کے منتخب وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک صاحب کو آپ کا خیال آ جائے گا۔ وہ پہلے ہی یہ کہہ کے اپنا فرض ادا کر چکے ہیں کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے خاندان جو اپنے بچوں کی تلاش میں ہیں اُن کا مداوا اُن کے پاس نہیں۔

میں آپ کے لانگ مارچ کی حمایت اِس لیے کرتا ہوں کہ یہ طویل مارچ ہے۔

کوئٹہ سے کراچی تک کا سفر سات سو کلومیٹر ہے اور یہ فاصلہ آپ پیدل طے کریں گے۔ آپ کے مختصر سے قافلے میں چونکہ کم عمر بیبیاں اور بچے بھی شامل ہیں تو امید کرتے ہیں کہ یہ سفر آہستہ آہستہ کٹے گا۔مہینے نہیں تو چند ہفتے تو لگ ہی جائیں گے۔ یوں ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ جب تک آپ کا قافلہ کراچی پہنچے گا ہم میڈیا والے، ہمارے سیاستدان اور ہماری بھولی بھالی سول سوسائٹی ملک کے اِنتہائی اہم مسائل نمٹا چکی ہوگی اور شاید ہم توجہ سے آپ کی بات سُن سکیں گے اور اگر خدا نے توفیق دی تو آپ کا کراچی پریس کلب کے باہر شایان شان اِستقبال بھی کر سکیں گے۔

شاید آپ یہ کہیں کہ کتنے مہینے کراچی، لاہور اور اسلام آباد پریس کلب کے باہر آپ اپنے دکھوں کی دکان سجا کر بیٹھے رہے، اپنے شہیدوں اور گم شدگان کی تصویروں سے گرد جھاڑتے رہے، تب کوئی نہیں آیا تو اب کیوں آئے گا۔

آپ سے عرض کیا نا کہ قوم کو کچھ اہم مسئلے درپیش ہیں جو فوری توجہ طلب ہیں۔ آپ کہیں گے کہ جس کے بچے کو اُس کی آنکھوں کے سامنے وردی والے اُٹھا کر لے جائیں اور پھر سالوں تک یہ بھی نہ بتائیں کہ وہ زندہ ہے یا مار دیا گیا اُس سے زیادہ فوری توجہ طلب مسئلہ کیا ہو سکتا ہے؟

جِس المیے پر محترم چیف جسٹس صاحب کا چیخ چیخ کر گلا بیٹھ جائے، جن لوگوں کی فہرستیں بناتے بناتے اِنسانی حقوق والے بور ہونے لگیں ، کیا اُس مسئلے کو بھلا دینا چاہیے؟

آپ اپنا مارچ جاری رکھیں لیکن ذرا آہستہ کیونکہ ہمیں پہلے کچھ اہم کام کرنے ہیں۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ طالبان کے سامنے اِسلام کا نام لے کر دامن پھیلائیں یا اُن کی شلوار کھینچ کر ثابت کریں کہ وُہ ہندو ہیں۔

ہمیں ابھی یہ طے کرنا ہے کہ ایک سولہ سالہ بچی فخر پاکستان ہے یا فتنۂ یہود و ہنود ۔

ہمیں اِس فیصلے کا انتظار ہے کہ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ نجم سیٹھی صاحب کو چلانے دیا جائے یا اُنہیں کہا جائے کہ بس آپ چڑیا اُڑائیں ۔

اور آپ کو تو یہ پتہ ہی ہو گا کہ سپہ سالار ریٹائر ہُوا چاہتے ہیں، اُن کی جانشینی کا فیصلہ بھی سر پر ہے۔

اور جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا آج کل قوم ، اُس کے رہنما اور ہم میڈیا والے بہت مصروف ہیں۔ میڈیا میں تو ابھی یہ فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ ہم میں سے کون آئی ایس آئی سے تنخواہ لیتا ہے اور کونْْ راْْٰ کا وظیفہ خوار ہے۔

آپ اپنے پیاروں کی تصویریں اُٹھا کر مارچ کرتے رہیں لیکن ذرا آہستہ تا کہ ہم مندرجہ بالا ضروری کاموں سے فارغ ہو سکیں۔

آپ نے شاید توجہ نہ دی ہو لیکن وزیراعظم نوازشریف نے واشنگٹن میں کھڑے ہو کر چند دن پہلے ہی کہا تھا کہ ہمیں اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ وُہ یہ بات مانتے ہوئے شرماتے ہیں کہ اِس گھر کے نیچے ایک تہہ خانہ بھی ہے جو تاریک ہے اور جہاں تشدد کے آلات کبھی زنگ آلود نہیں ہوتے اور تشدد کرنے والے ہمیشہ تازہ دم رہتے ہیں۔کہتے ہیں یہ تہہ خانہ بلوچ بچوں اور اُن جیسے کچھ اور بد نصیبوں کے لیے مختص ہے۔

اُوپر گھر والوں کو نیچے سے کبھی کبھی آہیں اور سسکیاں سُنائی دیتی ہیں ۔ لیکن گھر میں اِتنا ہنگامہ ہے کہ یہ آوازیں دب جاتی ہیں۔ کبھی کبھار ایک چیخ سنائی دیتی ہے۔ایک لمحے کے لیے خاموشی چھاتی ہے پھر گھر والے پورے زور و شور سے یہ بحث کرنے لگتے ہیں کہ پاکستانی سینما کی نشاۃ ثانیہ میں کیا رکاوٹیں ہیں ۔

مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم پاکستان چند ضروری کاموں سے فارغ ہو کر پوچھیں گے کہ اِس تہہ خانے کی چابی کِس کے پاس ہے۔ پھر آپ کو آ کر بتائیں گے کہ گمشدگان میں سے کون ہمیشہ کے لیے گم ہو چکا۔

اپنا لانگ مارچ جاری رکھیں لیکن ذرا آہستہ کیونکہ محرم کی بھی آمد آمد ہے۔ آپ کے مختصر قافلے کی بے سروسامانی اور اِس میں پردہ دار بیبیوں اور بچوں کی وجہ سے مجھے خطرہ ہے کہ کوئی آپ کے قافلے کو قافلۂ حسینی کا حصہ نہ سمجھ بیٹھے اور آپ کراچی آتے آتے کہیں کُوفے نہ پہنچ جائیں۔

اسی بارے میں