وائبر، سکائپ پر پابندی کی ایک اور اپیل

سکائپ
Image caption ان ایپلکیشنز پر تین ماہ کے لیے پابندی ضروری ہے۔

سندھ حکومت نے وائبر، ٹینگو، سکائپ اور واٹس ایپ پر پابندی کے لیے دوبارہ وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعلٰی سید قائم علی شاھ کی زیر صدارت امن امان کے بارے میں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا جس میں سماجی رابطے کی ان ویب سائیٹس پر پابندی کی اہمیت پر غور کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ ان ایپلکیشنز پر تین ماہ کے لیے پابندی ضروری ہے۔

واضح رہے کراچی امن امان کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ رینجرز پولیس اور صوبائی حکومت اپنا کام بہتر انداز میں کر رہی ہے اب وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے۔

وزیر اعلٰی ہاؤس سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے تمام غیر قانونی سِموں کو 20 اکتوبر 2013 تک بلاک کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ ان کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے کسٹمرز کو اسلحہ لائسنس کی رجسٹریشن اور تصدیق کے طریقہ کار کے تحت ایک سم کے اجراء کے ساتھ رجسٹرڈ کریں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیکیورٹی وجوہات کے باعث ہائی پروفائل قتل کے مقدمات میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمات کراچی سے باہر چلائے جائیں گے، اس سلسلے میں ابتدائی طور صحافی ولی بابر اور وکیل نعمت اللہ رندھاوا قتل کیس دیگر اضلاع میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلٰی سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ ان پر مقدمات چلانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں بھی سنجیدہ ہے، اب کراچی میں ٹارگٹڈ کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں لیکن یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک مکمل امن نہیں ہوجاتا۔

اجلاس میں بدنام ملزمان کی گرفتاری، تحقیقات اور ان کے خلاف مقدمات چلانے والے افسران کے لیے مالی پیکیج دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ پولیس اور سی آئی ڈی کے 5287 چھاپوں کے دوران 7794 ملزمان کوگرفتار کیا گیا ہے۔ انسپیکٹر جنرل سندھ پولیس شاہد ندیم نے بتایا کہ 350 مقابلے ہوئے، جس کے نتیجے میں35 ملزمان ہلاک ہوئے۔ دیگر گرفتار ملزمان میں سے 107 قتل کے مقدمات ، 54 ٹارگٹ کلنگ، 19 دہشت گردی، 49 بھتہ خوری اور 23 اغواء برائے تاوان میں ملوث ہیں ۔

آئی جی پولیس سندھ نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ شب مختلف شہروں میں کریکر دھماکوں میں ملوث 54 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

رینجرز حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 585 چھاپے مارے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 1434 مجرموں کو گرفتار کیا گیا اور 1200 ہتھیار برآمدکئے گئے۔ گرفتار ملزمان میں 9 کا تعلق تحریک طالبان سے ہے جبکہ 93 ٹارگٹ کلنگ، 120 بھتہ خوری اور 6 اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں۔

وزیراعلٰی سندھ نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے مقدمات کی سماعت جیلوں میں کی جارہی ہے لہذٰہ ان جیلوں میں سیکورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔

وزیراعلٰی نے آئی جی سندھ پولیس اور رینجرز کے افسران کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران امن وامان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے مشتبہ گاڑیوں کی نقل وحرکت پر کڑی نگاہ رکھنے، امام بارگاہوں کے نزدیک گاڑی پارک نہ کرنے اور جلوسوں کے روٹس کو بھی سیکورٹی کے لحاظ سے کلیئر کرنے کی ہدایت کی ۔