’کراچی میں اسلحے اور منشیات پر قابو نہ پایا تو ہم صرف دیکھتے ہی رہ جائیں گے‘

Image caption عدالت نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ سمندری راستے سے اسلحہ نہیں لایا جا رہا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے مطابق ملک کا سب بڑا شہر کراچی اس صورت میں ہی بچ سکتا ہے جب اسلحہ اور منشیات پر کنٹرول ہوگا، بصورت دیگر ہمیں یہ شہر خدا حافظ کہہ دے گا اور ہم صرف دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔

جمعرات کو کراچی میں امن امان کی بحالی کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے موقعے پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کسٹم حکام کو حکم جاری کیا ہے کہ یہ تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں کہ گذشتہ تین برسوں میں پاکستان کی بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر آنے والے اسلحے کی تعداد، اقسام، کس نے منگوایا اور کہاں سے منگوایا گیا تھا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وفاقی محتسب اعلیٰ شعیب سڈل کمیشن رپورٹ میں جن لاپتہ کنٹینروں کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ ان میں کتنے اسلحے بارود کے تھے۔

سماعت کے موقعے پر جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر پرانے کنٹینر امریکہ کے نہیں تھے تو پھر امریکی سفیر وضاحت کیوں کر رہے تھے۔

آئی ایس آئی کے وکیل راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ جو کنٹینر لاپتہ ہوئے ہیں ان میں اسلحہ تھا، امریکی سفیر نے غیر ضروری طور پر خط لکھا ہے۔ جس کے جواب میں جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، کسی کو خط لکھنے سے روک تو نہیں سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کسٹم حکام سے سوال کیا کہ جو نیٹو کنٹینر اترتے ہیں ان کو کیا چیک کیا جاتا ہے؟ حکام نے انہیں بتایا کہ وہ کنٹینر پاکستان فوج کے ماتحت ادارے نیشنل لاجسٹک سیل کے ذریعے جاتے ہیں، آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ان کی چیکنگ کرتے ہیں۔ کسٹم کا کام ٹیکس لینا ہے چونکہ یہ کنٹینر ٹیکس فری ہوتے ہیں اس لیے وہ چیک نہیں کرتے۔

اینٹی نارکوٹکس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ظفر اقبال عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ان سے سوال کیا کہ کیا یہ ان کے علم میں ہے کہ یوسف گوٹھ اور سہراب گوٹھ میں منشیات کے اڈے ہیں، چیف جسٹس نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’جنرل ہوکر یوسف گوٹھ کا نام لینے سے ڈرتے ہو‘۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کراچی میں غیر معمولی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے یہ تمام اداروں کا کام ہے کہ یہاں قانون اور حکومت کی رٹ بحال کی جائے، کسی رعایت کے بغیر ملزمان کے خلاف کارروائی کریں، یہ ملزمان نہ صرف امن امان کا مسئلہ پیدا کر رہے ہیں بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ملک کا سب بڑا شہر کراچی اس صورت میں ہی بچ سکتا ہے جب اسلحہ اور منشیات پر کنٹرول ہوگا، بصورت دیگر ہمیں یہ شہر خدا حافظ کہہ دے گا اور ہم صرف دیکھتے ہی رہے جائیں گے۔

اپنے حکم نامے میں عدالت نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک وفاقی وزیر کی نگرانی میں اسلحے سے بھرے کنٹینر لائے گئے، بعد میں ڈی جی رینجرز اس بیان سے دستبردار ہوگئے لیکن بیان کے علاوہ یہ ان کی ذمے داری بھی تھی کہ اس کی تحقیقات کریں۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لیے مہم چلائی لیکن اس کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی، لیکن اس ذمے داری سے دوسرے ادارے بھی بری الاذمہ نہیں ہیں۔

’چیئرمین ایف بی آر، چیف کلیکٹر کسٹم اور کلیکٹر کسٹم تسلیم نہیں کرتے کہ غیر قانونی اسلحہ کی آمد ہو رہی ہے لیکن پولیس اور رینجرز نے جو چھاپے مارے ہیں ان میں بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ ادارے ناکام ہوئے ہیں۔کراچی کو جب تک غیر قانونی اسلحے سے پاک نہیں کیا جائے گا اس وقت تک موجوہ بہتر صورتحال کو برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا‘۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وفاقی محتسب اعلیٰ شعیب سڈل نے لاپتہ کنٹینروں کی تحقیق کی ہے جس میں کئی حقائق سامنے آئے ہیں اس کی ایک کاپی چیئرمین ایف بی آر کے پاس بھی موجود ہے لیکن انہوں نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔عدالت نے کسٹم کے سابق رکن رمضان بھٹی کی اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ سمندری راستے سے اسلحہ نہیں لایا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اسلحے کو کچھ دیر کے لیے بھول جائیں جو بڑی مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل ایران سے کشتیوں کی مدد سے لایا جا رہا ہے، یہ کسٹم حکام کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کسٹم انٹلی جنس نے اسلحہ اور منشیات کی کراچی میں دستیابی کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ میں بڑے اڈے موجود ہیں، لیکن کسٹم، میرین سکیورٹی اور کوسٹ گارڈ کے موقف سے ایسا لگتا ہے کہ ان کی خواہش ہی نہیں ہے کہ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ کا خاتمہ ہو۔

اسی بارے میں