امن مذاکرات کے لیے حکومت نے رابطہ نہیں کیا: پاکستانی طالبان

Image caption تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے ہیں

شدت پسند کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کے لیے ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

ایک دن پہلے جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ امید اور دعا کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات آئین کے دائرۂ کار کے اندر ہوں۔

تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا ہے اور ابھی تک ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے: نواز شریف

’حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے‘

’افسوس حکومت، عوام کی سوچ آگے بڑھنے سے قاصر‘

طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے بقول’ابھی کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں اور نہ ہی کوئی جرگہ ہو رہا ہے۔‘

اس سے پہلے جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں برطانیہ کے نائب وزیراعظم نک کلیگ سے ملاقات میں طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی فورسز اور خفیہ ہتھیاروں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ نہیں چاہتی کہ ملک کی گلیوں میں معصوم شہریوں کا خون بہے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار گلیوں میں مارے جائیں۔

وزیراعظم نے برطانیہ کے دورے پر جانے سے پہلے وزیر داخلہ چوہدی نثار علی خان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا تھا۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے لیے رابطے کیے جائیں۔

رواں ماہ وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ کے دورے پر جاتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تمام پارٹیوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد ہم نے مذاکرات شروع کیے لیکن پھر تشدد بھڑک اٹھا اور مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔‘

وزیراعظم کے بقول پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے اوردوسرے فریق کی طرف سے بھی اسی طرح کی کوششیں ہونی چاہییں۔

ستمبر میں کل جماعتی کانفرنس میں حکمراں جماعت کو طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا اختیار دیا گیا تھا تاہم اس فیصلے کے فوری بعد بری فوج کے میجر جنرل کی ہلاکت، تحریک طالبان کی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے تمام قیدیوں کی رہائی اور قبائلی علاقوں سے فوج نکالنے سمیت متعدد ’شرائط‘، اور پشاور میں حملے سمیت تشدد کے متعدد واقعات پیش آنے کے بعد مذاکرات کا عمل کھٹائی میں پڑتا ہوا دکھائی دیا جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے مطابق حکومت نے مذاکرات میڈیا کے حوالے کر دیے تھے۔

اسی بارے میں